تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 338
طرف ہی مبذول رہی جن کی ہدایت اورترقی کے لئے وہ مبعوث کئے گئے تھے۔مگرچونکہ بنی اسرائیل اہل مصر سے مل جل کررہتے تھے اوربنی اسرائیل کو الگ مخاطب کرنے اوران کے اند رایک نئی مذہبی روح پیداکرنے کی ا س وقت کو ئی صورت نہیں تھی اس لئے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اوراس کی قوم کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت میں شریک کرلیا۔اورآپ نے فرعون اوراس کی قوم کو بڑی بھار ی تبلیغ کی اورمتواتر کئی نشانات کے ذریعہ ان پر حجت تمام کی۔مگر بنی اسرائیل کے مصر سے چلے جانے کے بعد آپ کامصریوں کے ساتھ کوئی واسطہ نہ رہا۔کیونکہ آپ اصولی طور پر صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے ہی مبعوث ہوئے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی اورآپ ؐمدینہ تشریف لے گئے تومکہ والوں سے آپ کاتعلق منقطع نہیں ہوابلکہ آپ برابران کی ہدایت کے لئے کوشش فرماتے رہے۔جوآپ ؐکے درجہ اورمقام کی بلندی کا ایک بہت بڑاثبوت ہے۔اَلَایَتَّقُوْنَ میں بتایا گیاہے کہ انبیاء کی بعثت کی اہم غرض تقویٰ کاقیام ہوتی ہے۔مگربالعموم لوگ غلطی سے نیکی اور تقویٰ کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں حالانکہ نیکی تووہ نیک کام ہوتاہے جوہم کرچکے ہیںیاکررہے ہیں۔اورتقویٰ یہ ہے کہ انسان ایسے مقام پر کھڑاہوجائے کہ اس کے دل میں آئندہ جوجذبات بھی پیداہو ں وہ نیک اورپاک ہوں۔کیونکہ جذبات کا اصل مقام دل ہے گو ان کا ظہور دما غ کے اعصاب کے ذریعہ سے ہوتاہے۔سائینسدان اس امر پر بحثیں کرتے چلے آئے ہیں کہ انسانی روح کا منبع دماغ ہے دل نہیں اوریہی وجہ ہے کہ وہ روح کی حقیقت کو نہیں پاسکے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ انسانی روح کاجیساکہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیموں اوررؤیاو کشوف سے پتہ چلتاہے دل سے تعلق ہے ہاں دما غ چونکہ منبت اعصاب ہے اس لئے قلبی علوم کو محسوس کرنا اوردل کے علوم مخفیّہ سے مستفیض ہونا اس کاکام ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حیا ۃ کا مقام دل کو قرار دیاہے دماغ کو نہیں۔اور روح کا سب سے گہراتعلق اس عضو سے ہو سکتا ہے جوانسانی جسم میں سب سے اہم حیثیت رکھتاہو اورجس کاکام سب سے نمایاںہو۔اوروہ اہم کام دل کاہی ہے۔دماغ کانہیں۔دل کی ایک سیکنڈ کی حرکت بندہونے سے کلّی طورپر انسان پرموت وارد ہوجاتی ہے۔لیکن دماغ میں اگر فتور پیداہوجائے توگواس وجہ سے کہ دما غ کاکام علوم قلبیہ کو محسوس کرناہے علوم پردہ میں آجاتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ انسان پر موت بھی وا رد ہوجائے۔غرض دماغ خادم ہے اوردل وہ اصل مرکز ہے جہاں اللہ تعالیٰ اپنے انوار نازل کرتاہے۔لیکن خواہ فلسفیوں کے تتّبع میں کوئی شخص تدبراورتفکر اوراخلاق فاضلہ کاتمام مدار دماغ پررکھے یایہ کہے کہ انسانی عقل اورمعرفت کاسرچشمہ دل ہے۔اور دماغ کو علوم اورمعارف سے کچھ تعلق نہیں پھر خواہ وہ دل اوردماغ کی بجائے جذبات اورافکار کالفظ استعمال کرے۔