تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 336

الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۱۷اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَؕ۰۰۱۸ گے اور(تمہاری دعائوں کو )سنتے رہیں گے۔پس فرعون کے پاس جائو اوراسے کہو کہ ہم رب العالمین(خدا)کے بھیجے ہوئے ہیں۔(اس حکم کے ساتھ )کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔حل لغات۔ذَنْبٌ۔ذَنْبٌ یُسْتَعْمَلُ فِیْ کُلِّ فِعْلٍ یَسْتَوْخَمُ عُقْبَاہُ (مفردات ) یعنی ہر وہ فعل جس کانتیجہ خراب ہو ذنب کہلاتاہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اس وقت کو یاد کروجب تمہارے رب نے موسیٰ ؑ کو پکارا اوراسے کہاکہ تُو ظالم قوم یعنی فرعونیوں کی قوم کے پاس جااور اُسے کہہ کہ کیا وہ تقویٰ اختیار نہیں کریں گے ؟ اس پر موسیٰ نے کہا۔اے میرے رب! میرے جانے کاکیا فائدہ وہ تومجھے جھٹلادیں گے۔علاوہ ازیں میراسینہ ان کے آنے والے سلوک کا تصور کر کے تنگی محسوس کرتاہے اورمیری زبان اس ڈر سے بند ہوتی چلی جاتی ہے کہ وہ انکار سے کام لیں گے۔پس تو اپنا پیغام ہارون کی طرف بھیج۔نیز وہ مجھ پر گناہ کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔سومیں ڈرتاہوںکہ کہیں وہ میری بات سنے بغیر ہی مجھے قتل نہ کردیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ان کی مجال نہیں کہ وہ ایسا کرسکیں۔لیکن چونکہ تونے ایک خواہش کااظہار کیا ہے ہم ہارون ؑکو بھی مبعوث کرتے ہیں۔سوتم دونوں ہمارے نشان لے کر جائو۔بڑانشان تویہی ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری دعائیں سنتے رہیں گے اورفرعون اوراس کے ساتھی تمہار اکچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے۔سوتم دونوں فرعون کے پا س جائو اور اسے کہو کہ ہم رب العالمین خدا کی طرف سے تمہاری طرف رسول بن کر آئے ہیں تم ہمارے پیغام کو قبول کرو۔اوربنی اسرائیل کو غلامی سے نجا ت دے کر ہمارے ساتھ روانہ کردو۔یہ واقعہ بیان فرماکر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جس خدا نے فرعون کی قوم کے لئے ہدایت کاسامان مہیا کیاتھا۔و ہ مکہ والوں کے لئے کیوں ہدایت کاسامان مہیا نہ کرتا۔فرعون کی قوم کے لئے تو کسی پہلے نبی کی دعاموجود نہیں تھی لیکن مکہ والوں کے لئے تو ابراہیم ؑ کی یہ دعاموجود تھی۔کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ(البقرۃ: ۱۳۰)یعنی اے ہمارے رب! توان لوگوں میںاپنا ایک رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے انہیں کتاب اورحکمت سکھائے اوران کا تزکیہء نفوس کرے۔توبڑاغالب اورحکمت والا ہے۔پس اگر بغیر کسی دعا کے اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کی ہدایت کے لئے موسیٰ کو مبعوث فرما دیاتواتنی بڑی دعاکی موجودگی میں جبکہ اللہ تعالیٰ کا بھی یہ وعدہ تھا کہ وہ اپنے انعامات کی بارش نسل اسمٰعیل ؑ