تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 337
پر برسائے گا اوراسے بھی ایک بڑی قوم بنائے گا۔(پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۰ )کیوں ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنابرگزیدہ کھڑانہ کرتا پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاآنا لوگوں کے لئے کسی حیرت کاموجب نہیں بننا چاہیے۔حیرت تب ہوتی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کا کوئی سامان پیدانہ ہوتا اورابراہیمی دعا رائیگاں چلی جاتی۔پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑکا ذکر فرماکر یہود کوبھی اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تم موسیٰ ؑ کی کتاب پر ایما ن رکھتے ہو۔تمہیں معلوم ہے کہ تورات میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ ’’ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ ساایک نبی برپاکروں گا اورجوکچھ میں اسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا۔اورایساہوگاکہ جوکوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تومیں اس کاحساب اس سے لوںگا۔‘‘ (استثنا باب۱۸ آیت ۱۸،۱۹) کیااس پیشگوئی کے مطابق یہ ضروری نہیں تھا کہ موسیٰ ؑ کے بعد بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسمٰعیل میں سے ایک ایسانبی آتا جوموسیٰ ؑکامثیل ہوتا۔یعنی جس طرح وہ صاحب شریعت نبی تھا اسی طرح آنے والا رسول بھی صاحب شریعت ہوتا۔پھر تورات میں یہ بھی کہاگیاتھا کہ وہ جب بھی خدا کاکلام سنائے گاتوکہے گاکہ میں خدا کانام لے کر تمہیں یہ کلام سناتاہوں چنانچہ قرآن کریم کی کوئی سورۃ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے نام کے بغیر شروع ہوتی ہو۔ہرسورۃ سے پہلے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھا ہواہوتاہے جوہریہودی اورعیسائی کو اس امر کی طرف توجہ دلاتاہے کہ تم کیوں اس نبی کو نہیں مانتے جوموسیٰ ؑکی پیشگوئی کے مطابق جب خدا تعالیٰ کا کلام سناتاہے تواس سے پہلے یہ الفاظ بھی کہہ دیتاہے کہ میں اللہ کانام لے کر یہ کلام سناتاہوں اورپھر بھی اس کو کوئی سزانہیں ملتی۔غرض موسیٰ ؑکا ذکر مکہ والوں کو دعائے ابراہیمی کی طرف اوریہودیوںاورعیسائیوں کو تورات کی پیشگوئی کی طرف توجہ دلانے کے لئے کیاگیاہے اور کہا گیاہے کہ وہ اس دعااورپیشگوئی کی عظمت کو سمجھیں اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاانکار کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب کااسی طرح نشانہ نہ بنیں جس طرح فرعون موسیٰ ؑکاانکار کرکے نشانہ بنا۔اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔قَوْمَ فِرْعَوْنَمیں یہ بتایاگیاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب فرعون کی طرف بھجوایاگیا تو آپ کا بڑاکام یہی تھاکہ بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلائیں۔اورفرعون کو سمجھائیں کہ وہ اس الٰہی منشاء میں روک نہ بنے۔اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دے۔چنانچہ جب بنی اسرائیل مصر سے چلے گئے توپھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصریوںسے کوئی واسطہ نہ رہا بلکہ ان کی تمام ترتوجہ بنی اسرائیل کی