تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 335
کیسے خوبصورت جوڑے پیداکردیئے ہیں پھر کیا وہ اس نظار ہ کو دیکھتے ہوئے نہیں سمجھ سکتے کہ جس طر ح مادی دنیا میں ہم نے ہرچیز کاجوڑابنایاہے اسی طرح ان کی روح بھی اپنی طاقتوں کے اظہار کے لئے ایک جوڑے کی محتاج ہے اوریہ جوڑاخدا تعالیٰ کی رحمت سے مل کر مکمل ہوتاہے۔پس اگروہ اپنی روحانی نسل کو جاری کرناچاہتے ہیں توانہیں اس خدائی رحمت کے ہاتھ کو تھام لیناچاہیے جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں اس کی طرف سے بلندہواہے ورنہ جس طرح ایک بانجھ عورت اولاد سے محروم رہتی ہے۔اسی طرح وہ ان روحانی نعماء سے محروم رہیں گے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ لٹائے جارہے ہیں۔وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَۙ۰۰۱۱ اور(یادکر)جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکاراتھا (اورکہاتھا) کہ ظالم قوم یعنی فرعون کی قوم کے پاس جا۔قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوْنَ۰۰۱۲قَالَ رَبِّ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ (اوران سے کہہ کہ) کیا وہ تقویٰ نہیں کرتے؟ اس نے (جواب میں )کہا۔اے میرے رب يُّكَذِّبُوْنِؕ۰۰۱۳وَ يَضِيْقُ صَدْرِيْ وَ لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ میں ڈرتاہوں کہ وہ میری تکذیب نہ کریں۔اورمیراسینہ تنگی محسوس کرتاہے اورمیری زبان فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ۰۰۱۴وَ لَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ (اچھی طرح) چلتی نہیں پس (میرے ساتھ)ہارونؑ کو بھی مبعوث کر۔اور(یہ بات بھی ہے کہ)ان يَّقْتُلُوْنِۚ۰۰۱۵قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰيٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ (لوگوں)کامیرے خلاف ایک الزام بھی ہے اورمیں ڈرتاہوں کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں۔فرمایا۔ہرگز نہیں۔مُّسْتَمِعُوْنَ۰۰۱۶فَاْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ پس (ہماراحکم سن کر )تم دونوں ہماری آیتیں لیکر (چلے )جائو۔ہم (تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ) ساتھ ہوں