تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 334

ٹین نرہوتاہے اورایک مادہ ہوتاہے اوروہ بھی ایک دوسرے کے اثر کو قبول کرکے ایک نئی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔مگرخدا تعالیٰ اس سے بھی اوپر جاتاہے اورفرماتا ہے کہ ہم نے ہرچیز کاجوڑا بنایاہے اورچیز کے لفظ میں نباتات بھی آجاتی ہے۔حیوانات بھی آجاتے ہیں۔جمادات بھی آجاتے ہیں۔بلکہ اس سے بڑھ کر ذرّات عالم اورمجموعہ ء ذرات عالم بھی آجاتے ہیں اورجب خدا تعالیٰ نے یہ کہاکہ ہم نے ہرچیز کو جوڑابنایاہے تواس کے معنے یہ ہوئے کہ خدا تعالیٰ کے سواباقی ہرچیز کاجوڑاہے اورکوئی چیز اپنے جوڑے کے بغیر صحیح نتیجہ پیدا نہیں کرسکتی۔جس طرح مادی دنیامیں اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کاجوڑابنایاہے۔اسی طرح روحانی دنیامیں انسانی روح خدا تعالیٰ کے فضل اوراس کی رحمت کا جوڑا ہے اورجب تک الٰہی فضل انسانی روح سے آکر نہ ملے اس وقت تک روحانی نسل کاسلسلہ قائم نہیں ہوسکتا۔مجھے یادہے۔میں ابھی بچہ ہی تھا کہ میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ میں امرتسر میں ہوں وہاں ملکہ کاایک بت تھا جو سنگ مرمر کا بناہواتھااوراس کے ارد گرد ایک چبوترہ تھا اوروہ بھی سنگ مر مرکابناہواتھا۔اورچبوترے پر چڑھنے کے لئے سنگ مرمرکی ہی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔میں نے رؤیامیں دیکھاکہ ان سیڑھیوں پرتین چار سال کا ایک بچہ کھڑاہے جو نہایت حسین اورصاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس ہے اورآسمان کی طرف دیکھ رہاہے۔رؤیامیں میں سمجھتاہوں کہ یہ مسیح ؑ ہے۔تھوڑی دیر کے بعد آسمان پھٹااوراس میں سے ایک چیز زمین کی طرف اڑتی ہوئی نظر آئی۔وہ خوبصورت رنگو ں والے لباس میں لپٹی ہوئی تھی۔اوراس کے پَر تھے جن سے وہ اڑتی ہوئی آرہی تھی۔میں رؤیا میں سمجھتاہوں کہ یہ حضرت مریم ؑ ہیں نیچے آکر جیسے مرغی اپنے پَر پھیلا کر بچوںکو اپنے پَروں کے نیچے لے لیتی ہے۔اسی طرح اس نے بچہ پراپنے پَر رکھ دیئے۔اورجب اس نے ایساکیا تومیری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔LOVE CREATES LOVE یعنی محبت محبت پیداکرتی ہے۔(الفضل ۱۵ ؍ مارچ ۱۹۳۰ صفحہ ۹)جب میری آنکھ کھلی تومیں نے سمجھا کہ مریم جو رؤیامیں مجھے بطور ماں دکھائی گئی ہے اس سے مراد خدا تعالیٰ کی محبت ہے اوربچہ جو مسیح کی شکل میں دکھایاگیا و ہ روح کی خداتعالی کی طرف انابت اور جھکنے کاتمثّل تھا۔جب انسانی روح خدا تعالیٰ کی طرف جھکتی ہے تواس کے نتیجہ میں ایک روحانی وجودپیدا ہوتاہے جوخدا تعالیٰ کوایسا ہی پیاراہوتاہے جیسے ماں کو اس کابچہ۔کیونکہ خدا تعالیٰ جسم کے ساتھ پیار نہیں کرتا۔و ہ وجود جس کے ساتھ خدا تعالیٰ پیار کرتاہے۔و ہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ مل کر پیدا ہوتاہے۔اوراس کے لئے خدا بمنزلہ ماں بن جاتاہے۔یہی سبق اللہ تعالیٰ نے کفار کو دیاہے۔اورفرمایا ہے کہ کیا وہ زمین کی طرف نہیں دیکھتے کہ ہم نے اس میں کیسے