تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 333
تفسیر۔فرماتا ہے۔کیاانہوں نے کبھی غور نہیں کیا۔کہ زمین میں ہم نے کس طرح قسم قسم کی اعلیٰ ترکاریاں اورپھل وغیرہ پیداکئے ہیں اگر وہ اس پر غور کرتے توان کومعلوم ہوجاتاکہ دین کے معاملہ میںبھی خداایسا ہی کرے گا۔اوراعلیٰ روحانی نعمتیں بھیجے گا جوروح کی غذابنیں گی۔اوراعلیٰ قسم کے انسان پیداکرے گا جوایک د وسرے کے ہمدرد اورخیرخواہ ہوںگے۔اورگویہ لوگ ابھی خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہہ رہے مگر تیرارب بڑاغالب اوررحم کرنے والا ہے وہ ضرور ایسی تدبیرکرےگاجس سے دنیا پر اس کی بادشاہت قائم ہوجائے گی۔اوراس کے رحم کا لمبا سلسلہ انسانوں کے لئے جاری ہوجائے گا۔مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍمیں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ تمام نباتات نر ومادہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔یعنی ان میں کچھ نر پودے ہوتے ہیں اور کچھ مادہ۔اور جب وہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تب فصل پیدا ہوتی ہے اسی لئے ماہرین زراعت کہا کرتے ہیں کہ باغوں میں شہد کی مکھّیاں رکھنی چاہئیں کیونکہ وہ نر درخت پر بیٹھ کر اُس سے نرکا نطفہ لیتی ہیں۔اور مادہ درخت پر جا کر رکھ دیتی ہیں جس کی وجہ سے اُسے خوب پھل آتا ہے۔عرب لوگ کھجو رکے متعلق اس حقیقت کو جانتے تھے اوروہ نراورماد ہ درختوں کو آپس میں ملایاکرتے تھے۔مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کاعلم نہیں تھا۔ایک دفعہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھجور کے نردرختوںکو مادہ کھجوروں سے ملارہے ہیں۔آ پ نے فرمایاکیاکرتے ہو۔انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم تونرکومادہ پرڈالتے ہیں تاکہ فصل اچھی ہو۔آپ نے فرمایا۔اس کاکیافائدہ جو پھل پیداہوناہے وہ توہوناہی ہے۔انہوں نے یہ سن کر چھوڑ دیامگرنتیجہ یہ ہواکہ ان کی فصل ماری گئی۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہوئے اورانہوں نے عرض کیا۔یارسول اللہ!ہماری توفصل اچھی نہیں ہوئی۔آپؐ نے فرمایا۔کیوں۔انہوںنے کہا۔آپؐ نے جوفرمایاتھا کہ نر کا مادہ مادینہ کھجور پرنہ ڈالو۔آپؐ نے فرمایا۔میں توتمہاری طرح کاایک انسان ہو ں یہ علم توتم جانتے ہو۔مجھے معلوم نہیں۔اس لئے تم وہی کچھ کروجسے علمی لحاظ سے تم صحیح سمجھتے ہو۔(مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ما قالہ شرعًا) غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارہ میں ذاتی طورپر کوئی علم نہیں تھا۔مگراللہ تعالیٰ نے بتایاکہ تمام نباتات آپس میں جوڑا جوڑا ہیں۔بلکہ سورئہ ذاریات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (الذاریا ت :۵۰) یعنی نرومادہ صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ ہرچیز میں ہیں۔جمادات میں بھی ہیں۔نباتات میں بھی ہیں۔حیوانات میں بھی ہیں۔اوراب توبعض سائینسدان اس تحقیق میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ دھاتوں میں بھی نرومادہ کے قائل ہوگئے ہیں۔ایک سائینسدان کی کتاب میں میں نے پڑھاکہ ٹین بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک