تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 330

کررہے ہو۔اس پر ان کا غصہ میں مبتلا ہونااوران کاحضرت مرزا صاحبؑ کی مخالفت کے لئے کھڑاہوجاناایک بالکل طبعی بات تھی۔یہ ایسی ہی بات تھی جیسے کوئی شخص کسی دوسرے کو کہہ دے کہ آج تمہارے گھر کے تما م افراد کاکھانا ہمارے ہاں ہے لیکن جب کھانے کا وقت آئے تواسے پتہ لگے کہ اسے دھوکادیاگیاہے کھانا وغیرہ کسی نے تیار نہیں کیا اب ایسے موقعہ پراگروہ غصہ میں نہ آئے تو کیاکرے کیونکہ اسے بھوک لگی ہوئی ہوگی۔بچے رورہے ہوں گے اورادھر یہ حالت ہوگی کہ ابھی گھرمیں آٹاگوندھاجارہاہوگا۔آگ جلائی جارہی ہوگی۔اورسب کہہ رہے ہوں گے کہ یہ کیا مصیبت آگئی۔اب کھانا کب تیار ہوگا۔اورکب کھائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے سے درحقیقت ایسا ہی ہوا۔مسلمانوں کوکہاگیاتھا کہ تمہاری خدا تعالیٰ کی طرف سے دعوت ہے۔تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔آسمان سے مسیح ؑآئے گا اوروہ دنیا کی دولتیں لوٹ کر تمہارے گھروں میں بھر دے گا اوروہ اطمینان اور آرام کے ساتھ بیٹھے تھے۔سمجھتے تھے کہ نہ ہمیں لکھنے پڑھنے کی ضرورت ہے۔نہ روپیہ کمانے کی ضرورت ہے نہ کسی جدوجہد اورقربانی کی ضرورت ہے۔مسیح آئے گا اورہم اس کے آتے ہی بامِ عروج پر جاپہنچیں گے۔ا س عقیدہ کے نتیجہ میں جب وہ علم سے محروم ہوگئے۔ترقیات سے محروم ہوگئے۔عزت سے محروم ہوگئے۔شہرت سے محروم ہوگئے۔پستی اورذلت اورنکبت ان پرپوری طرح چھا گئی توحضرت مرزا صاحب ؑ نے آکر کہاکہ جو کچھ بنے گا اپنے کام سے بنے گا۔کسی دوسرے پرامید رکھنا بالکل غلط ہے۔تم کوایک وقت کی روٹی نہ ملنے سے جتناصدمہ پہنچتاہے اس سے کتنا زیادہ صدمہ ان لوگوں کو ہوا ہوگا۔تم تصور توکرو کہ اگر کوئی تم سے مذاق کرے کہ رات کوتمہاراہمارے ہاں کھاناہوگا اورعین وقت پر جب تمہارے بچے بھوک سے بلبلارہے ہو ں۔تمہیں معلوم ہوکہ تمہارے ساتھ مذاق کیاگیاہے اوراس وقت تمہیں کھاناپکانے کی فکر ہو توجتناغصہ تمہارے دل میں اس وقت پیداہو سکتا ہے اس سے لاکھوں گنازیادہ غصہ مسلمانوںکو پیداہواکیونکہ ان کا اوران کی نسلوں کا انحصارہی اس لوٹ پر تھا جومسیح نے کرنی تھی۔پھر ایک چیز نہیںبیسیوں چیزیں ہیں جومسلمانوں میں جھگڑے کاباعث بنی ہوئی تھیں۔کہیں رفع یدین پر جھگڑاتھا۔کہیں آمین بالجہر کہنے پر جھگڑاتھا۔کہیں تشہد میں انگلی اٹھانے یانہ اٹھانے پرجھگڑاتھا۔کہیں نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے یاناف کے نیچے باندھنے پر جھگڑاتھا۔حضرت مرزا صاحبؑ نے ان تما م جھگڑوں کو ختم کردیا اورکہاکہ ان باتوں پر لڑنا جھگڑنا فضول ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی قوم کو جوش دلانے کے لئے آمین اونچی بھی کہی ہے اور کبھی نیچی بھی کہی ہے۔کبھی فوجی روح قائم کرنے کے لئے آپؐ نےاپنے ہاتھ سینہ پر باندھے اور کبھی انکسار اورتذلل کی حالت میں آپؐ نے ناف کے نیچے بھی باندھ لئے۔کبھی تشہد کے وقت آپ نے ا نگلی اٹھائی اور کبھی نہیں اٹھائی۔تشہد میں انگلی