تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 329

المشرکین علی المستضعفین ،الکامل فی التاریخ لابن اثیرذکر تعذیب المسلمین)غرض وہ تمام قسم کی مصیبتیں اوراذیتیں جو مختلف انبیاء کے زمانہ میں ان کے دشمنوں نے ان کو دیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمع ہوگئیں۔اورآپ کے پیغام کو قبول کرنے سے اعراض اختیار کرلیاگیا۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت پر بھی ہوا۔اورآپ کو ہررنگ میں کچلنے اورنابود کرنے کی کوشش کی گئی۔کیونکہ آپ دنیاکی طرف جو پیغام لائے وہ ان کے فرسودہ خیالات کے منافی تھا۔اوران کے اند رایک نیا تغیر پیداکرنے والاتھا۔بانیء سلسلہ احمدیہ نے جب دعویٰ کیا تواس وقت لوگوں میں یہ احساس تھا کہ مسیح ناصریؑ دوبارہ دنیامیں آئیں گے اوروہ غیر مسلموں کے سب اموال لوٹ کر مسلمانوںکے حوالے کردیں گے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتے ہی اعلان فرما دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔اب بظاہر یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ہرشخص جو دنیا میں پیدا ہوتاہے وہ ایک دن مرتاہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی طرح آئے اورفوت ہو گئے۔لیکن مسلمانوں نے اپنے دلوں میں مسیح ؑ کی آمد ثانی کے متعلق جو تصورات قائم کررکھے تھے ان کو اس تعلیم سے شدید صدمہ پہنچا۔اورانہوں نے کہا۔اس کامطلب یہ ہواکہ عیسائیوں کوکوئی نہیں مارے گا۔اس کامطلب یہ ہواکہ ہندوئوں کو کوئی نہیں مارے گا۔اس کامطلب یہ ہواکہ سکھوںکوکوئی نہیں مارے گا۔اس کامطلب یہ ہواکہ مسلمان ویسے ہی کمزوررہیں گے جیسے پہلے تھے۔سوائے اس کے کہ وہ اپنے زورسے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔اس کامطلب یہ ہواکہ یورپ اورامریکہ کی دولت مسلمانوںمیں تقسیم نہیں ہوگی۔غرض اس تعلیم سے حضرت مسیح ؑ پرہی موت نہ آئی بلکہ خود مسلمان بھی زندہ درگورہوگئے۔وہ لو گ جو پہلے گھرو ں میں بیٹھے دولتوں کے منتظر تھے سمجھتے تھے کہ امریکہ کے پریزیڈنٹ کاسارامال فلاں کو مل جائے گا اورراک فیلر کامال فلاںکو مل جائے گا ان کی توساری امیدیں ختم ہوگئیں اوروہ گویا جیتے جی مرگئے۔اب بظاہر یہ ایک چھوٹی سے چیز نظرآتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے قوم کے خیالات کواتنادھکادیاکہ جس کاصدمہ مسلمانوں سے برداشت نہ ہوسکااوروہ مخالفت کے لئے کھڑے ہوگئے۔پہلے جب مسلمانوں سے کہا جاتا تھاکہ کام کروتووہ کہتے تھے ہم نے کام کرکے کیالیناہے۔مسیح جب آئے گاتووہ کافروں کا مال لوٹ کر ہمارے گھروں میں ڈال دے گا۔حضر ت مرزا صاحبؑ کے آنے سے ان کی سب امیدوں پر پانی پھر گیاکیونکہ حضرت مرزا صاحبؑ نے آکر ان سے یہ کہاکہ جوکچھ کرناہے تم نے کرناہے۔تم نے ہی لڑناہے۔تم نے ہی مرناہے اور تم نے ہی اپنی ترقی کے لئے آپ جدوجہدکرنی ہے۔گویاجوچیز انہیں پہلے بیٹھے بٹھائے حاصل ہونے کی توقع تھی اس کے متعلق انہیں محنت اورقربانی اورجدوجہد کاراستہ دکھایاگیا اورانہیں بتایا گیا کہ تم غلط خیالات میں مبتلاہوکراپنی قیمتی زندگی کو ضائع