تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 331

اٹھانے کے یہ معنے ہیں کہ انسان اپنے ہاتھ سے بھی اس بات کا اقرا رکرتاہے کہ خداایک ہے۔مگریہ دونوں طرح جائز ہے۔خواہ کوئی انگلی اٹھائے یا نہ اٹھائے اس کی نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بعض عربوں کو دیکھ کرکہ ابھی ان میں پوری طرح توحید نہیں آئی تشہد میں انگلی اٹھانے کاحکم دے دیا۔مگر بعض دفعہ آپؐ نے انگلی نہیں بھی اٹھائی۔جوشخص توحید کے عقیدہ پر پختگی کے ساتھ قائم ہوگیاہے اگر وہ انگلی نہ اٹھائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔مگراس مسئلہ پر اتنا زوردیاگیا کہ بعض لوگوں کی محض ا س وجہ سے انگلیاں توڑ دی گئیں کہ انہوں نے تشہد میں انگلی کیوں اٹھائی ہے۔پھر قرآن کے متعلق مسلمانوں میں یہ غلط خیال قائم تھاکہ اس کی کئی آیا ت منسوخ ہیں۔لیکن حضرت مرزا صاحبؑ نے آکر کہہ دیاکہ قرآن کریم کی ایک آیت بھی منسوخ نہیں۔بِسْمِ اللہِ سے لے کر وَالنَّاسِ کے س تک ایک ایک حرف اورایک ایک زبراورایک ایک زیر قابل عمل ہے۔اب بجائے اس کے کہ مسلمان شکرگذار ہوتے کہ آپ ؐنے ایک اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہمارے سامنے پیش کی ہے جوقرآنی حسن کو نمایاں کرنے والی ہے۔چونکہ یہ تعلیم ان کے خیالات کے خلاف تھی انہوں نے آ پ کی مخالفت شروع کردی اورعلماء نے ہندوستان کے ایک سرے سے لیکر اس کے دوسرے سرے تک آپؑ کے خلاف ایک طوفان بےتمیزی برپاکردیا اورآپ کو کافر اورمرتداورزندیق اورواجب القتل قراردیاگیا۔(اشاعة السنة جلد ۱۴نمبر ۱صفحہ ۵ ، جلد ۱۴نمبر ۱۰صفحہ ۲۹۸ وجلد ۱۵ نمبر ۷ صفحہ ۱۴۱) غرض تاریخ کا ہر دور وَ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ کی سچائی پرشہادت دے رہاہے۔جب کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغامبر قوم کی زندگی کا پیغام لے کر آیا ہمیشہ اس پر ہنسی اڑائی گئی۔اسے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی اوراس کے پیغام سے اعراض کیاگیا۔اس جگہ بھی اللہ تعالیٰ اسی اعراض کا ذکرکرتے ہوئے فرماتا ہے فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَيَاْتِيْهِمْ۠ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ چونکہ یہ لوگ صداقت کو جھٹلاچکے ہیں اس لئے اب عنقریب ان کے پا س ان امور کے متعلق جن پر یہ ہنسی اڑایاکرتے تھے ہماری عظیم الشان خبریں پوری ہوکر آجائیں گی۔اورانہیں معلوم ہوجائے گا کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاانکار کیسی خطرناک چیزہے۔اس جگہ سزائوں کوخبریں اس لئے کہاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورئہ فرقان کے آخر میں کفار کو تنبیہ کی تھی کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے حضور دعااورگریہ و زاری سے کام نہیں لو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری کوئی پرواہ نہیں کرے گا جس کے معنے یہ تھے کہ اگر وہ توبہ نہیں کریں گے توان پرعذاب نازل ہوگا اوروہ تباہ کردیئے جائیں گے۔پس چونکہ سورئہ فرقان کے آخر میں انہیں عذاب کی خبر دی گئی تھی جس پر کفار نے ہنسی اڑائی اورانہوںنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام سے اعراض