تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 321
کے سر میں گھس گئے اورآپؐ بے ہوش ہوکر ان صحابہؓ کی لاشوں پر جاپڑے جو آپؐ کے ارد گر د لڑتے ہوئے شہید ہوچکے تھے اوراس کے بعد کچھ اورصحابہؓ کی لاشیں آپؐ کے جسم اطہر پر جاگریں اورلوگوں نے یہ سمجھا کہ آپؐ مارے جاچکے ہیں۔مگرجب آپؐ کو گڑھے سے نکالاگیا۔اورآپؐ کو ہوش آیاتوآپؐ نے یہ خیال ہی نہ کیاکہ دشمن نے مجھے زخمی کیاہے۔میرے دانت توڑدیئے ہیں اور میرے عزیزوں اوررشتہ داروں اوردوستوںکوشہید کردیاہے بلکہ آپ نے ہوش میںآتے ہی دعاکی کہ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُونَ (مسلم کتاب الجہاد باب غزوة احد)۔اے میرے رب!یہ لو گ میرے مقام کو شناخت نہیں کرسکے اس لئے توان کو بخش دے اوران کے گناہوںکومعاف فرمادے۔اسی طرح طائف میں جب آپ کو پتھروں سے لہولہان کیاگیا اورآپ وہاں سے دوڑتے چلے آرہے تھے تواحادیث میں لکھا ہے کہ یکدم آپ پر کشفی حالت طاری ہوئی اورپہاڑوں کافرشتہ آپ کی خدمت میں حاضرہوا۔اوراس نے کہاکہ اگر آپ چاہیں توطائف والوںپر ابھی ان کے پہلو کے دونوں پہاڑ اُلٹادیئے جائیں۔مگرآپ نے فرمایا۔ایسانہ کرنا۔ان لوگوں نے جوکچھ کیا ہے جہالت اورلاعلمی کی وجہ سے کیاہے۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کی نسل میں سے وہ لو گ پیداکرے گا جو اسلام کے خدمت گذار ہوں گے۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احد کم آمین۔۔۔۔) چنانچہ واقعات بتاتے ہیں۔کہ باوجود اس کے کہ دشمنوں نے آپ کو مجنون بھی کہا۔کاہن بھی کہا۔ساحر بھی کہا کذاب بھی کہا اورہر رنگ میں انہوں نے آپ کے مشن کو مٹاناچاہا۔مگرآخر انہی میں سے ایسی سعید روحیں نکل آئیں جنہوں نے دلیری سے صداقت کو قبول کرلیا اوراپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر وہ دیوانہ وار اسلام کی اشاعت کے لئے نکل کھڑے ہوئے اورتھوڑے عرصہ میں ہی انہوں نے چہار دانگِ عالم کو اسلامی نو رسے منورکردیا۔غرض لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بے مثال شفقت اورمحبت کا ذکر کیا گیاہے جوآپ کو بنی نوع انسان سے تھی اوربتایا گیاہے کہ آپؐ ان کی ہدایت کے لئے رات اوردن اس قدر جدوجہد فرماتے اوراتنی دعائیں کرتے تھے کہ قریب تھا کہ آپ اس غم سے اپنے آپ کو ہلاک کرلیتے آپ کو نہ اپنے کھانے کی پرواہ تھی نہ پینے کی پرواہ تھی۔نہ نیند اورآرام کی پرواہ تھی۔آپ لوگوں کوہلاکت کے گڑھوں سے بچانے اورانہیں نجات اورسلامتی کا راہ دکھانے کے لئے راتوںکو اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضورگریہ وزاری کرتے اوراتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ کے پائوں متورم ہوجاتے(بخاری کتاب التہجد باب قیام النبی اللیل )۔گویاجس طرح جوش کی حالت میں بعض دفعہ انسان بکرے پرچھری چلاتے ہوئے اس چھری کو گردن کے آخر ی