تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 320
کے آستانہ کی طرف لوٹ آئیں۔آپ کایہ سفر جو آپ کی قربانی اورایثار کاایک زندہ نمونہ ہے سرولیم میو رکو بھی متاثر کئے بغیرنہ رہ سکا۔اوراسے اپنی کتاب ’’لائف آف محمدؐ۔‘‘ میں یہ الفاظ لکھنے پر مجبو رہونا پڑا کہ ’’ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے طائف کے سفر میں ایک شاندار شجاعانہ رنگ پایا جاتاہے۔اکیلا آدمی جس کی اپنی قوم نے اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اوراسے دھتکار دیا خداکے نام پر بہاد ری کے ساتھ نینواؔ کے یوناہ نبی کی طرح ایک بت پر ست شہر کو توبہ کی اورخدائی مشن کی دعوت دینے کے لئے نکلا۔یہ امر اس کے اس ایمان پر کہ وہ اپنے آپ کو کلّی طورپر خدا کی طرف سے سمجھتاتھا ایک بہت بڑی روشنی ڈالتاہے۔‘‘ (Life of Muhammad pg۔117) سفر طائف سے واپسی پر مکہ والوں نے پھر ایذادہی اوراستہزاء کے د روازے کھول دیئے۔مگرآپ محبت اورپیار سے مکہ والوںکو بت پرستی کے خلاف وعظ کرتے رہے۔لوگ بھاگتے تو آپؐ ان کے پیچھے جاتے۔و ہ منہ پھیرتے تو آپ پھر بھی باتیں سناتے۔آخر ان کے متواتر مظالم کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا وطن ،و ہ وطن جس میں تیرہ سال تک آپؐ تبلیغ ہدایت کرتے رہے تھے۔اورجس کے رہنے والوں کو آپ نے سب سے پہلے خطاب کیاتھا رات کے وقت چھوڑنا پڑا اورچھپتے چھپاتے آپ مدینہ پہنچے مگر دشمن نے وہاں بھی آ پ کاپیچھا نہ چھوڑا اورمتواتر مدینہ پر حملے ہوتے رہے۔ایک سوبیس کے قریب وہ لڑائیاںہیںجو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کے صحابہؓ کو لڑنی پڑیںاوران میں سینکڑو ں صحابہؓ اورآپؐ کے عزیزترین رشتہ دار مارے گئے۔مگرآپؐ نے خدائے واحد کانام بلند کرنے کے سلسلہ میں کبھی کسی مصیبت کوایک پرِکاہ کے برابر بھی نہیں سمجھا۔آپ صبح بھی اورشام بھی اوردن کے اوقات میں بھی اوررات کی تاریکیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کاپیغام لوگوں کو پہنچاتے چلے گئے اوراس بار ہ میں نہ آپ نے جانی قربانی سے دریغ کیا۔نہ مالی قربانی سے دریغ کیا نہ جذبات اور احساسات کی قربانی سے دریغ کیا اور نہ عزیزوںاوررشتہ داروں کی قربانی سے دریغ کیا۔آپ کی دوبیٹیاں ابولہب کے دوبیٹوں سے بیاہی ہوئی تھیں اس نے دھمکی دی کہ اگر آپ توحید کی تعلیم ترک نہیں کریں گے تومیں اپنے بیٹوں سے کہہ کر آپؐ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دلوادوں گا۔مگر آپؐ نے پروا نہ کی اوراس بدبخت نے اپنے بیٹوں سے کہہ کر آپ کی دونوں بیٹیوںکو طلاق دلوادی۔(اسد الغابۃ رقیۃ بنت رسول اللہ ؐ)پھر ہر خطرے کے مقام پر دشمن کا اولین نشانہ صرف آپؐ کا وجود ہوتاتھا۔مگر جب بھی کو ئی موقعہ آیاآپ نے اس بہادری سے اس خطرے کی آگ میں اپنے آپ کو پھینکا کہ یوں معلوم ہوتاتھاکہ آپؐ اپنی جان کی کوئی حقیقت ہی نہیں سمجھتے تھے۔غزوئہ اُحد کے موقعہ پر ایک پتھر آپؐ کے خود پرآلگا اوراس کے کیل آپؐ