تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 318
شرفاء کے دل میں اس ظلم کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی اور انہوں نے اس معاہدہ کو توڑ کر محصورین کو باہر نکا ل لیا۔مگر ان تین سالہ لمبے مظالم کا یہ نتیجہ نکلا کہ تھوڑے دنوں کےبعد ہی آپ کی وفاشعار بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا کیونکہ اس لمبے مقاطعہ نے ان کی صحت پر بُرا اثر ڈالاتھا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس مقدس خاتون کے بیسیوں غلام تھے اور جو مکہ کے مالدار اشخاص میں سے تھیں جو بیسیوں گھرانوں کو کھانا کھلا کر خود کھانا کھایا کرتی تھیں۔بڑھاپے میں جب انہیں کئی کئی فاقے کرنے پڑے اور اگر کچھ کھانے کو ملا بھی تو درختوں کے پتے یا کھجور کی گھٹلیاں تو اس وقت ان کی صحت پر کیا اثر پڑا ہوگا۔چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا اورپھر چند دن اور گذرے کہ حضرت ابو طالب بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے(السیرة الحلبیة باب اجتماع المشرکین علی منابذة بنی ہاشم و باب الھجرة الثانیة الی الحبشة و باب ذکر وفات عمّہ ابی طالب و زوجتہ خدیجةؓ) مگر اتنے لمبے ظلم کے باوجود آپؐ نے شعب ابی طالب سے اپنا قدم باہر رکھتے ہی فیصلہ کیا کہ اگر مکہ کے لوگ خدا تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے تیار نہیں تو مکہ سے باہر رہنے والوںکو مجھے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانا چاہیے شاید ان میں کوئی سعید روح ہو جو اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہے اور اُسے قبول کر کے اس کی برکات کی وارث ہو۔چنانچہ آپ طائف تشریف لے گئے جو مکہ سےقریباً ساٹھ میل کےفاصلہ پر ایک مشہور شہر ہے اور لوگوں کو خدائے واحد کی طرف بلایا۔مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سنتے اور اُسے قبول کرتے انہوںنے لڑکوںکو اکسایا اور انہوں نے پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھرائو شروع کردیا۔آپؐ کے پائوں پتھروں کی بوچھاڑ سے لہولہان ہوگئے اور حضرت زیدؓ بھی جو آپ کے ساتھ تھے آپؐ کو بچاتے ہوئے سخت زخمی ہوئے۔مگروہ برابر کئی میل تک آپ کو پتھر مارتے چلے گئے۔آپ واپس بھاگتے ہوئے کسی جگہ دم لینے کے لئے ٹھہرے تو جسمِ اطہر سے خون پونچھتے اور ساتھ ہی فرماتے۔اے میرے ربـ! یہ لوگ نہیں جانتے کہ میں کون ہوں تُو انہیں معاف فرما۔راستہ میں مکہ کے ایک سردار کا باغ تھا۔آپ وہاں ذرا سستانے کے لئے ٹھہر گئے۔اُس نے جب آپؐ کے کپڑوں کو خون سے لت پت دیکھا تو اُس کے دل میں درد پیدا ہوااور اُس نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اُسے انگو رکے چند خوشے دیئے اور رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زیدؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وہ دو آدمی جو درخت کے نیچے بیٹھے ہیں۔اُن کے پاس جائو۔اور انہیں یہ انگور کھلائو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت زخموں سے چُور چُور تھے اور بہت دیر تک دشمن کے آگے بھاگے آئے تھے۔لیکن اِدھر یہ غلام آپ کے پاس پہنچا اوراُدھر آپ نے اس غلام کو مخا طب کرتے ہو ئے فرمایا۔تم کہاں کے رہنے والے ہو۔اس نے جواب دیا۔میں نینواکارہنے والا ہوں۔آپ نے