تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 317
ان کی تعریف کرتے۔تمام رؤساء بیٹھے ہوئے تھے اورابوجہل بھی ان میں موجود تھا کہ حمزہؓ گئے اورانہوں نے وہی کمان جو ان کے ہاتھ میں تھی۔ابوجہل کے منہ پر ماری اورکہا میں نے سناہے تم نے محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)کومارابھی ہے اورگالیاںبھی دی ہیں اورمیں نے سناہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے کوئی لفظ تم کونہیں کہاتھا جس کے بدلہ میں تم گالیاں دیتے۔پھر حمزہؓ نے کہا تم بہادر بنے پھر تے ہو۔اورجو چپ کرجاتاہے اس پر ظلم اورتعدّی کرتے ہو۔اب میں نے سارے مکہ کے سامنے تمہیں ماراہے اگر تم میں ہمت ہے تومجھے مار کردیکھو۔مکہ کے نوجوان حمزہؓ کو پکڑنے کے لئے اٹھے۔مگرابو جہل پر ان کاایسارعب طاری ہواکہ اس نے کہاجانے دو۔صبح مجھ سے ہی کچھ زیادتی ہوگئی تھی۔(السیرۃ الحلبیہ باب استخفائہ صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ فی دارالارقم۔۔۔۔۔۔) ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ میںنماز پڑھ رہے تھے۔جب آپ سجدہ میں گئے توبعض شریروں نے آپؐ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھری لاکر رکھ دی اور چونکہ وہ بڑی بھاری تھی آپ سجدہ سے سر نہ اٹھا سکے۔حضرت فاطمہ ؓ کو اس بات کاعلم ہواتووہ روتی ہوئی آئیں۔اورانہوں نے آپؐ کی پیٹھ پرسے اوجھری ہٹائی(بخاری کتاب الوضوء باب اذاألقیٰ علی ظہر المصلّی قذراوجیفۃ لم تفسد علیہ صلوٰتہٗ) ایک دفعہ آپؐ بازار سے گذر رہے تھے کہ مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپؐ کے گرد ہوگئی اوررستہ بھر آپ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی۔کہ لوگو! یہ وہ شخص ہے جو کہتاہے کہ میں نبی ہوں۔آپؐ کے گھر میں ارد گرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں۔جن میں بکریوں اوراونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔( السیرة الحلبیة باب استخفائہ صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ فی دارالارقم)جب آپ نماز پڑھتے توآپؐ کے اوپر گردوغبار ڈالی جاتی۔حتیّٰ کہ مجبور ہوکر آپؐ کو چٹان میں سے نکلے ہو ئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی۔(الطبری جلد ۲ صفحہ ۳۴۳)مگر اس کے باوجود آپ خدائے واحدکانام بلند کرتے چلے گئے اوران لوگوں کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے رہے۔جب مکہ والوں نے دیکھا کہ ہمارے یہ مظالم بھی اس شخص کے پائے استقلال میں کوئی جنبش پیدا نہیں کرسکے تو انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے تمام ساتھیوں کا کلّی طورپر مقاطعہ کردیا۔اور انہیں شعب ابی طالب میں محصور کردیا۔اور فیصلہ کیا کہ کوئی شخص ان کے پاس سودا فروخت نہ کرے اور نہ ان سے لین دین کرے اور برابر تین سال تک انہوں نے آپ کا مقاطعہ جاری رکھا۔ان ایا م میںصحابہؓ کو ایسی تکلیف سے اپنے دن بسر کرنے پڑے کہ بعض دفعہ وہ درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتے تھے اور بعض دفعہ انہیں کھجور کی گھٹلیاں کھانی پڑیںاور یہ سلسلہ صرف چند دن یا چند ہفتے یا چند مہینے جاری نہیں رہا بلکہ تین سال تک جاری رہا۔تین سال کے بعد مکہ کے چند