تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 319

فرمایا۔اچھا !تم میرے بھائی یونس ؑکے وطن کے ہو۔آپؐ کایہ فقرہ سن کر اس غلا م کے کان کھڑے ہوگئے کہ یہ عر ب کا باشند ہ ہونے کے باوجود نینواکے رہنے والے یونس ؑ کو اپنا بھائی تصور کرتاہے۔اس نے آ پ سے پوچھا آپ کاکیاحال ہے اورلوگوں نے آپ سے ایساسلوک کیوں کیا ہے؟آپ نے فرمایا۔تم تو یونسؑ کے ملک کے ہو تم جانتے ہوکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مصلح دنیا میں آتے ہیں ان سے ایسا ہی سلوک کیاجا تاہے۔میں نے ان لوگوںکاکچھ نہیں بگاڑا۔میں نے صرف اتنا ہی کہا تھاکہ تم ایک خدا کی طرف آئو اوربتوں کی پرستش نہ کرو۔اورمیں تمہیں بھی یہی بات کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرو۔و ہ غلام عیسائی تھا۔اسے آپ کی باتیں سن کر یقین ہو گیا کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔چنانچہ جس طرح انجیل میں حضرت مسیح ؑ کے متعلق آتاہے کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اوراس نے آنسوئوںسے آپ کے پائو ں دھونے شروع کردئیے اوربالوں سے آپ کے پائوں کی مٹی کو صاف کیا (لوقا باب ۷ آیت ۳۸) اسی طرح وہ غلام بھی آپ کے قدموں میں گرگیا اورا س نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے پائوں کی مٹی اورخو ن صاف کرنا شروع کردیا۔اورمحبت سے آپ کے ہاتھو ںکو بوسہ دیا۔جب وہ واپس گیا تو با غ کے مالک نے اسے ڈانٹا کہ تم نے یہ کیا کیا۔مگر اس کا دل کھل چکا تھا۔اور وہ آپؐ پر ایمان لاچکا تھا۔اوراب کوئی مخالفت اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے علیحدہ نہیں کرسکتی تھی(السیرة الحلبیة ذکر خروج النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی الطائف)۔بنی نو ع انسان کے لئے یہ کیسی عظیم الشان تڑپ ہے جو آپؐ کے سینہ و دل میں پائی جاتی تھی۔ہم دیکھتے ہیں کہ حضر ت مسیح علیہ السلام کے پاس ایک عورت آئی اوراس نے کہا۔اے استاد !مجھے بھی وہ تعلیم سناجو تو اپنی قوم کو دیتا ہے۔مگرانہوں نے کہا۔میرے پاس تیرے لئے کچھ نہیں۔یہ تعلیم صرف بنی اسرائیل کے لئے ہے جو میرے بیٹے ہیں۔اوربیٹوں کی روٹی میں کتوں کے آگے کیسے پھینک سکتاہوں (متی باب ۱۵آیت ۲۲ تا۲۶)مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جو آپ کی قوم کانہ تھا۔ایسے وقت میں آیا جب آپ زخموں سے چو رچُورتھے اورخون سے لت پت دور تک دشمن کے آگے آگے بھاگے چلے آئے تھے۔اورایک ایسی جگہ پر آیا جو آپ کے دشمن کی تھی۔اور ذراسی تبلیغ کرنے سے بھی ایک بڑی آفت آسکتی تھی۔وہ آتاہے او رخو د بھی نہیں کہتاکہ مجھے تبلیغ کرو۔مگر اسے دیکھتے ہی آپؐ تبلیغ کرنا شروع کردیتے ہیں۔کیونکہ آپؐ کے لئے عر ب اورغیر عرب برابر تھے۔آپؐ کے دکھ اورآپؐ کی تکالیف صرف عرب قوم کے لئے ہی نہیں تھیں۔بلکہ کالے گورے۔عربی ،مصری ،ہندوستانی سب کے لئے تھیں اورآپ اپنی ایک ایک حر کت میں اس بات کا احساس رکھتے تھے کہ لو گوں کو ہدایت میسرآجائے اوروہ خدائے واحد