تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 316
ہدایت کاجوغم آپ کوتھا وہ دنیا میں اَورکسی نبی کو نہیں تھا۔چنانچہ جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات کو دیکھتے ہیں توہمیں یہ دعویٰ ایک حقیقت بن کر نظر آتاہے اورہمیں قدم قدم پر ایسے واقعات دکھائی دیتے ہیں جوآپ کی اس عظیم الشان محبت اورشفقت کاثبو ت ہیںجو آپ کوبنی نوع انسان سے تھی۔چنانچہ آپ کو خدائے واحد کاپیغام پہنچانے کے لئے سالہاسال تک ایسی تکالیف میں سے گذرناپڑا کہ جن کی کوئی حد ہی نہیں۔ایک دفعہ خانہ کعبہ میں کفار نے آپؐ کے گلے میں پٹکا ڈال کر اتنا گھونٹا کہ آپؐ کی آنکھیں سرخ ہوکر باہرنکل پڑیں۔حضرت ابوبکرؓ نے سناتو وہ دوڑے ہوئے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تکلیف کی حالت میں دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اورآپ نے ان کفار کو ہٹاتے ہوئے کہا خدا کاخوف کرو۔کیاتم ایک شخص پر اس لئے ظلم کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ خدامیرارب ہے (بخاری کتاب المناقب مناقب ابی بکرؓ)۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ایک چٹان پر بیٹھے کچھ گہری فکر میںتھے کہ اچانک ابو جہل آنکلا۔اوراس نے آتے ہی آپؐ کو تھپڑ مارا اورپھر گندی سے گندی گالیاں آپ کو دینی شروع کردیں۔آپؐ نے تھپڑ بھی کھالیا اورگالیاں بھی سنتے رہے مگر آپ نے زبان سے ایک لفظ تک نہیں کہا۔جب وہ گالیاں دے کر چلا گیا توآپ خاموشی سے اٹھے اوراپنے گھر تشریف لے گئے۔حضرت حمزہؓ کی ایک لونڈی اپنے گھر میں سے دروازہ میں کھڑی یہ سارانظارہ دیکھ رہی تھی۔حمزہؓ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے وہ سپاہی آدمی تھے اورسارادن شکار میں لگے رہتے تھے اورشام کے وقت اپنے گھر آتے تھے اس روز بھی وہ شام کے وقت سینہ تان کر بڑے زورزورسے پیر مارتے اورہاتھ میں تیر کما ن پکڑے اوپچی بنے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔وہ لونڈی گھر کی پرانی خادمہ تھی اورپرانے نوکر بھی رشتہ داروں کی طرح ہوتے ہیں۔صبح سے وہ اپنا غصہ دبائے بیٹھی تھی جب اس نے حمزہؓ کودیکھا توبڑے جوش سے کہنے لگی۔تمہیں شرم نہیں آتی تیر کمان لئے جانو رمارتے پھرتے ہو۔تمہیں پتہ ہے کہ صبح تمہارے بھتیجے کے ساتھ کیاہوا؟حمزہؓ نے کہا۔کیاہوا؟اس نے کہا۔میں درواز ہ میں کھڑی تھی۔تمہارابھتیجاسامنے پتھر پر آرام سے بیٹھاتھا اور کچھ سوچ رہاتھا کہ اتنے میں ابو جہل آیا اوراس نے پہلے تو اس کو تھپڑ مارا۔اورپھر بے تحاشہ گالیاں دینی شروع کردیں۔پھر اس نے اپنے زنانہ انداز میں کہا۔اس نے ابو جہل کو کچھ بھی تونہیں کہاتھا۔کوئی بات اس نے نہیں کی تھی جس کی وجہ سے ابوجہل کو غصہ آتا۔مگر پھر بھی وہ گالیاں دیتاگیا اوردیتاگیا۔اور تمہارابھتیجاچپ کرکے سامنے کی طرف دیکھتارہا۔اوراس نے ان کاکوئی جواب نہ دیا۔ایک عورت اورپھر خادمہ کی زبان سے یہ بات سن کر حمزہؓ کی غیرت جوش میں آئی اورخانہ کعبہ کی طرف چل پڑے۔رؤساء مکہ کاطریق تھا کہ شام کے وقت وہ خانہ کعبہ میں بیٹھ کر اپنی بڑائیاں بیان کرتے اورلوگ