تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 315

خوبصورت بچے کو چوما تھا کیونکہ چھوٹابچہ سب کوپیارالگتاہے۔حالانکہ خواجہ صاحب ؒ کواس میں خدا کاجلوہ نظر آیاتھا۔اس لئے انہوں نے اسے چوما تھا۔لیکن مجھے چونکہ نظر نہ آیا۔اس لئے میں نے نہ چوما۔اب اس آگ میں مجھے خدا کا جلوہ نظر آیا اورمیں نے اسے چوم لیا اوریہاں آپ کی اتباع کی۔لیکن وہاں میری آنکھیں نہ کھلیں اس لئے نہ کی۔لیکن تم نے ہواوہوس کے ماتحت بچہ کو چوماتھاتووقتی طورپر ہر بزرگ پرایساوقت آتاہے کہ بنی نوع انسان کی محبت سے وہ لبریز ہو جاتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وقتی نہ تھی اورآپ کی روح اور جسم کا ایک حصہ تھی جس کا پتہ اس سے لگتاہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا توآپ کی زبان پر یہ الفا ظ تھے۔کہ لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارَیٰ اِتَّخَذُوْاقُبُوْرَاَنْبِیَاءِھُمْ مَسَاجِدَ۔(مسلم کتاب المساجدباب النھی عن بناء المسجد علی القبور) یعنی خدایہود اورنصاریٰ پرلعنت کرے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔گویاآپ کے دل میں تڑپ تھی کہ یہود اورنصاریٰ کیو ں اپنے لئے جہنم خرید رہے ہیں اورپھر اپنے ماننے والوں کو تنبیہ کی کہ وہ ایسانہ کریں۔گویاسکرات موت کے وقت بھی آپؐ کے اند رمسلمانوںاورکفار دونوں کی محبت کاجلوہ تھا۔ایک طرف یہود اور نصاریٰ کو شرک سے بچانے کا درد تھا۔دوسر ی طرف یہ درد تھا کہ یہی غلطی میرے ماننے والے بھی نہ کریں۔غرض آپ کی ساری زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ بنی نوع انسان کے ہر طبقہ کے لئے ہمدردی رکھتے تھے۔احادیث میں آتاہے کہ پہلے زمانوں میں خدا تعالیٰ کادین قبول کرنے والوں کے سروں پر آرے رکھ کر انہیں چیر دیاجاتاتھا اوروہ اُف تک نہیں کرتے تھے۔(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فی الاسلام)۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سال نہیں دوسال نہیں تین سال نہیں دس سال نہیں متواتر وفات تک آرے چلتے رہے اورآپؐ نے اس قد ردکھ اٹھائے کہ زمین و آسمان کے خدا کو یہ کہنا پڑاکہ توتواس غم میں اپنے آپ کو ہلاک کررہاہے کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح نے ایک دفعہ صلیب پر چڑھ کر سب گنہگاروں کا کفار ہ اداکردیاتھا(رومیوں باب ۵ آیت ۲ تا ۸)۔مگر مسیح کوتوساری عمر میں صرف وہی ایک واقعہ پیش آیا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی زندگی کے ہرلمحہ میں لوگوں کے لئے صلیب پر چڑھے اورآپ نے ان کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں موتیں قبول کیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ الفاظ جو اس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں نہ نوح ؑ کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں۔نہ ابراہیمؑ کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں۔نہ موسیٰ ؑ کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں۔نہ دائود ؑ اورسلیمانؑ کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں۔نہ عیسیٰ ؑ کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں۔صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ا ستعمال کئے گئے ہیں۔کیونکہ دنیا کی اصلاح اوران کی