تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 313
ہے کہ ؎ ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است برجریدئہ عالم دوامِ ما (دیوان حافظ شیرازی فارسی صفحہ ۸) دنیا میں خالی عقل نے کبھی زندگی نہیں پائی۔زندگی ہمیشہ عشق نے پائی ہے۔جذبات نے پائی ہے۔دنیا میں بڑے بڑے فلاسفر اورعاشق گذرے ہیں لیکن جو حکومت عشاق نے لوگوں کے دلوں پر کی وہ فلاسفروں کو حاصل نہیںہوئی۔انبیاء میں حقیقی عشق کی جومثالیں ہیں انہیں نظر اندا زکردو اورمجاز ی عشق ہی کو لے لو۔کتنے آدمی ہیں جو ارسطویاافلاطون کی باتوںکو جانتے ہیں یاان کانام بھی جانتے ہیں۔مگر کتنے ہیں جومجنوں اورلیلیٰ کو جانتے ہیں اورکتنے ہیں جوان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کوئی شہر یا قصبہ ایسانہ ہوگا جہاں شاعرنہ ہوں اوریہ شاعرکون ہیں۔لیلیٰ اورمجنوں کے شاگرد۔اوران میں سے ان شاعروں کو الگ کرکے جن کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں علیحدہ کردیاہے اورجودین کی خدمت یاخدا تعالیٰ کویاد کرنے کے لئے شعرلکھتے ہیں۔باقی تما م وہی ہیں جو لیلیٰ مجنوں کی نقل کرنا چاہتے ہیں۔اگرچہ وہ لیلیٰ اورمجنوں نہیں ہوتے لیکن تم جس وقت ان کا کلام سنو گے توایسامعلوم ہوگا گویاانہوں نے کبھی کھاناہی نہیں کھایا۔کبھی تکیہ سے سر نہیں اٹھایا کہ ساری رات ان کی آنکھیں نہ کھلی رہی ہوں اوران کی آنکھیں کبھی خشک نہیں ہوئیں۔جگر اوردل ان کے جسم میں ہے ہی نہیں۔مدتیں ہوئیں کچھ خون بن کر اور کچھ پانی بن کر بہہ چکا ہے اوروہ جیتا جاگتا وجود جوتمہارے سامنے بیٹھاہوگاکئی دفعہ مرااور دفن ہوچکا اوراس کے معشوق نے آکر اس کی قبر کو ٹھکرادیا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ لیلیٰ اورمجنوں کو بھی عشق میں پیچھے چھوڑناچاہتا ہے۔توجتنے دلوں پر عشق نے قبضہ کیاہے عقل نے نہیں کیا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف عقل کے میدان میں ہی اپنی برتری ثابت نہیں کی بلکہ جذبات کے میدان میں بھی و ہ سب عاشقوں سے آگے بڑ ھ گیاحتیّٰ کہ کوئی بھی عاشق عشق میں اس کامقابلہ نہیں کرسکتا۔خدا تعالیٰ کے عشق کو جانے دو کیونکہ وہ تمام لوگوںکی رسائی سے بالاہوتاہے۔انسانی عشق کو لے لو۔مجنوں کیا تھا ایک عورت کاعاشق تھا اس کاعشق باغرض تھا وہ اس سے متمتّع ہوناچاہتا تھا۔اس کے حسن سے فائدہ اٹھاناچاہتاتھا مگراس کے مقابلہ میں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاعشق جو دنیا سے تھا وہ کسی فائدہ کی غرض سے نہ تھا۔تمتّع کے خیال سے نہ تھا اورپھر وہ ایک دوسے نہیںدوستوں اور پیاروں سے نہیں حسینوں سے نہیں بلکہ سب سے تھا اور بدصورتوں سے اَوربھی زیادہ تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔