تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 314
اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم)شاید تواپنی جان کو ہلاک کردے گا ان خوبصورتوں کے لئے نہیں جنہوں نے ابو بکرؓ اورعمرؓ کی طرح ایمان لاکر اپنے چہروںکو منورکرلیاتھا بلکہ ان بدصورت اوربھونڈی شکل کے لوگوں کے لئے جنہیں دیکھ کر گھِن آتی تھی۔جنہیں دیکھ کر روحانی شخص کو متلی ہونے لگتی تھی جیسے عتبہ اورشیبہ اورابوجہل وغیرہ توان کے عشق میں مراجاتاتھا کہ کیوں ان کو فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔مجنوں کاعشق اس کے مقابلہ میں کیاہے۔اس نے اس سے محبت کی جس کی شکل اسے پسندتھی۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاعشق ان لوگوں سے بھی تھا جن کی روحانی شکل آپ کوناپسند تھی۔پھر اس کاعشق کسی ایک سے نہیں ساری دنیا سے وابستہ تھا۔صرف اس زمانہ کے لوگوں سے ہی نہیں بلکہ آئندہ زمانوں سے بھی جیسا کہ فرمایا۔وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّایَلْحَقُوْابِھِمْ (الجمعة: ۴)یعنی محمد رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) صرف اپنے زمانہ کے لوگوں کو ہی فائدہ پہنچانانہیں چاہتابلکہ ان لوگوں کے لئے بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے اپنے دامن فیض کو ممتد کرناچاہتاہے۔پس غور کرو جذباتی دنیا میں اس کاوجود کتنا عظیم الشان ہے۔ا س کے عشق کی انتہا ہی نہیں۔وہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ سلگاتاہے۔پھراس سے آسمانوں کی طرف پرواز کرتاہے اوراس کی روح خداکے آستانہ پر گرجاتی ہے اوراس کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت سے چنگاری لیتی ہے گویامحدود محبت غیر محدود محبت کو کھینچتی ہے اورپھر دنیا میں آتی ہے اوربعینہٖ اسی طرح جس طرح مشرق سے نکل کر آفتاب کی شعاعیں روئے زمین پرپھیلنی شروع ہوجاتی ہیں اس کی محبت بھی پھیلتی ہے۔مشرق و مغرب۔گورے اور کالے۔خوبصورت اور بدصورت سب کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔پھر وہ مکان کی حدبندیوںکو توڑتی ہوئی نکل جاتی ہے اورصدیوں کے بعد صدیاں گذر تی ہیں مگر وہ محبت ختم نہیں ہوتی اورنہ ہوگی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کی صف لپیٹ دے۔اور بنی نوع انسان کو دنیا سے اٹھالے۔یوں توہرنیک بندے پر محبت کے ایام کبھی کبھی آتے ہیں۔حضرت نظام الدین ؒصاحب اولیاء کے متعلق ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کے ساتھ جارہے تھے کہ راستہ میں ایک خوبصورت لڑکا گذرا۔آپ نے آگے بڑھ کر اس کامنہ چوم لیا۔اس پر شاگردوں نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کردیا کہ شاید اس میں جلوئہ الٰہی ہو۔ایک شاگرد جو آپ کے خاص منظور نظر تھے انہوںنے ایسانہ کیا۔باقیوں نے ا س پر چہ مگوئیاں شروع کردیں۔آگے چلے تو ایک بھٹیاری بھٹی میں آگ جلارہی تھی اورپتوں کی آگ کے شعلے نکل رہے تھے جوایک خوبصورت نظارہ پیش کررہے تھے۔آپ کھڑے ہوکر اسے دیکھتے رہے پھرجھکے اورشعلے کو بوسہ دیا۔اس وقت ا س شاگرد نے بھی شعلہ کو چوما۔جس نے لڑکے کو نہیں چوماتھا۔لیکن باقی شاگرد کھڑ ے رہے او رکسی کو جرأت نہ ہوئی۔اس پر انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے