تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 312
جسم کادوسراٹکڑہ ہے اورفوراًاس کی طرف لپک پڑے۔اس کے مقابلہ میں جو کلام فطرت صحیحہ کو مارنے کی کوشش کرتاہے و ہ یقیناً کتاب مکنون کے مخالف چلتاہے اورخواہ منہ اس کی کس قدر ہی تصدیق کریں دل اس پر مطمئن نہیں ہوسکتے اوروہ ضرور اپنے مقصد کے پوراکرنے میں ناکام رہتاہے۔کیونکہ وہ نصف دھڑ کی طرح ہے یامجرّد نرہے کہ جو بغیر مادہ کے بچہ نہیں دے سکتا۔غرض قرآن کریم کویہ ایک بہت بڑی فضیلت حاصل ہے کہ وہ کتاب مبین بھی ہے اورفطرت صحیحہ انسانیہ میں بھی یہ کتاب موجود ہے۔یعنی اس کاکوئی حکم انسانی فطرت کے مغائر نہیں۔لیکن چونکہ بغیر آسمانی مدد کے فطرت صحیحہ کے باریک خزائن کا بھی اظہار نہیں ہوسکتا اس لئے اللہ تعالیٰ کتاب مبین اتارتاہے تاکہ اس کے ذریعہ سے کتاب مکنون کاظہور ہو۔اورکتاب مکنون کے ذریعہ سے کتاب مبین کی لوگوںکو شناخت ہو۔اسی حقیقت کو صلحاء نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ یعنی دقائق فطرت کو سمجھنے سے ہی انسان کو خداملتاہے۔مگریہ فقرہ ناقص ہے اورشعرکاصرف ایک مصرعہ ہے حق وہی ہے جو قرآن کریم نے بتایاہے کہ عرفانِ نفس سے خداملتاہے لیکن خدا تعالیٰ کے کلام کے بغیر عرفان نفس بھی حاصل نہیں ہوتا۔گویاانسان اپنی حقیقت کو سمجھنے کے لئے بھی کتاب مبین کا محتاج ہے اوریہ دونوں چیز یں ایک دوسرے سے وابستہ اورپیوستہ ہیں۔پھر فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ اے محمدؐ رسول اللہ!یہ عظیم الشان کلام جو ہم نے تجھ پر نازل کیاہے اسے لوگوں تک پہنچانے اورانہیں اس لازوال دولت سے متمتع کرنے کے لئے تیرے دل میں بنی نوع انسان کی ہدایت کی اتنی شدید تڑپ پائی جاتی ہے کہ شاید تواپنی جان کو اسی غم میں ہلاک کرلے گا کہ کیوں یہ لوگ اس کتاب مبین پر ایما ن نہیں لاتے جوان کی دنیوی اوراُخروی بہبود کے لئے نازل کی گئی ہے اورجس میں ان کی تمام روحانی اور جسمانی ترقیات کے راز مضمر ہیں۔بَخَعَ کے معنے ہوتے ہیں۔اس طرح چھری پھیر ی کہ گردن کے پچھلے حصے تک پہنچ گئی۔گویاذبح کرنے میں مبالغہ اورسختی سے کام لیا۔ان معنوں کومد نظر رکھتے ہوئے ا س آیت میں یہ اشارہ کیاگیاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نوع انسان سے اتنی شدید محبت تھی کہ وہ ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک کررہے تھے۔اوران کے ہدایت نہ پانے کو اس طرح محسوس کررہے تھے جس طرح جوش سے بھرا ہوا انسان آگے سے چھری پھیرنا شروع کرتاہے توگردن کے پچھلے حصہ تک کا ٹ جاتاہے۔دنیا میں اب تک ہزاروں انبیاء گذرے ہیں۔مگر بنی نوع انسان کی محبت کایہ مقام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوااور کسی کو نصیب نہیں ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جہاں ایک طرف عقل و خرد کی بہترین مثال ہے وہاں اس کے ذریعہ جذبات کابھی نہایت پاکیز ہ طورپر ظہور ہواہے اوریہ جذباتی تمثال حقیقتاً اس نہایت لطیف شعر کا مصداق