تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 311
دی تھی کہ ہم انگریزوں کے خلاف کسی قسم کی سازش کرنے گئے تھے۔لیکن اتنی بات بالکل درست ہے کہ جب کسی کارڈ کے دوحصے آپس میں فٹ آجائیں تواس کارڈ کے صحیح ہونے میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کا ایک حصہ انسان کے ضمیر میں رکھ دیاہے اورجب وہ دونوں آپس میں مل جاتے ہیں توکتاب مبین کی صداقت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔مگرجس طرح بارش نہ ہونے پر کنوئوں کے پانی بھی سوکھنے لگتے ہیں۔اسی طرح کتاب مکنون اس وقت تک کام دیتی ہے جب تک کتاب مبین کاپانی برستارہے۔جب فترۃ کا زمانہ آجائے توکتاب مکنون بھی مخفی ترہوجاتی ہے۔گویادونوں کی مثال دودوستوں اورمحبّوں کی سی ہے کہ جب ایک قریب آتاہے تو دوسرابھی قریب آجاتاہے اورجب ایک دور چلاجاتاہے تودوسرابھی دورچلاجاتاہے۔جب کتاب مکنون کسی شخص کی اپنی جِلاکی وجہ سے نمایاں ہونے لگتی ہے اوراس کامالک اپنی ذکاوت کی وجہ سے اس کے مطابق اعمال کرکے اسے اورزیادہ مصفّٰی کر دیتاہے تو معاً کتاب مبین یعنی الہام الٰہی اس پر نازل ہونے لگتاہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیاگیاہے کہ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ( النور: ۳۶)یعنی فطرت مبارکہ محمدیہ ایسی مصفّٰی اورپاکیز ہ تھی کہ قریب تھاکہ خود بخود بغیر آگ کے جل اٹھتی یعنی بغیر اس کے کہ آسمانی آگ اس کو چھوتی وہ آپ ہی آپ دقائق اورمعرفت کو پالیتی۔کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ جب اس اندرونی تیل میں التہاب پیدا ہونے لگے توآسمانی آگ کووہ خود بخود جذب کرلیتا ہے۔غرض ان دونوں کتابوں کا عجیب جوڑ ہے کہ ایک کے قریب ہونے سے دوسری بھی قریب ہوجاتی ہے۔فطرت صحیح ہوتی ہے تووہ الہام کو کھینچ لیتی ہے اورالہام کی روشنی کسی کو نصیب ہوجائے۔تواس کی فطرت کے صحیح جذبات ابھر آتے ہیں۔اوردونوں میں لازم و ملزوم والی لذت پیدا ہوجاتی ہے۔اسی طرح جب کتاب مکنون مٹ جائے توکتاب مبین بھی نصیب نہیں ہوتی اورجب کتاب مبین سے انسان محروم ہوجائے توکتا ب مکنون بھی مٹ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایمان کامل کبھی خالی فطرت کے غورسے حاصل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کامل ہوتو الہام کامل اس سے جداہی نہیں رہ سکتا۔وہ فوراً اس پر اسی طرح آگرتاہے جس طرح وائرلیس کے صحیح آلہ پر خود بخود خبر گرنے لگتی ہے یاجوازبِ بجلی پر بجلی۔غرض الہام اورفطر ت صحیحہ ایک جوہرکے دوٹکڑے ہیں اوران کو الگ الگ سمجھنا سخت نادانی اوربے وقوفی ہے۔فطرت صحیحہ اورجذبات متناسب کے نتیجہ میں ہی عشق الٰہی کی آگ بھڑکاکرتی ہے جوکلام کوکھینچ لیتی ہے اوروصال کو آسان کردیتی ہے۔پس صحیح اورآسمانی کلام وہی ہو سکتا ہے جس کو فطرت صحیحہ اورجذبات سے کامل اتصال ہو اور بجائے جذبات کومارنے کے وہ ان کو صحیح طورپرابھارے اورفطرت صحیحہ اس کی تصدیق کرے کہ ہاں یہ کلام میرے