تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 310

ہے۔اسی طرح کتا ب مبین کی آمدپر کتاب مکنون بھی اپنے خزانے اگلنے لگتی ہے۔اورجب کتاب مبین کاپانی برسنا بند ہوجائے توکتاب مکنون بھی مخفی ترہوجاتی ہے۔کتاب مکنون سے مراد فطرت صحیحہ اورضمیر ہے اورکتاب مبین خدا تعالیٰ کاتازہ الہام ہے۔اورکتاب مبین کی سچائی کاثبوت یہ ہوتاہے کہ وہ کتاب مکنون کے مطابق ہو گویا اصل میں یہ دونوں ٹکڑے ایک ہی کل کے ہیں جسے کتاب مطلق کہنا چاہیے اورجب کتاب مکنون اورکتاب مبین کااتحاد ہوجائے توسمجھ لینا چاہیے کہ وہ کتاب مبین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔گویاکہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ لوگوںکو دھوکے سے بچانے کے لئے اپنی کتاب کا ایک ٹکڑا ان کے دلوں اوردماغوں میں بھی رکھ دیاہے۔تاکہ جو کتاب اس کے مطابق ہو وہ اس کی سمجھی جائے اورجو اس کے مطابق نہ ہو وہ جھوٹی قرار پائے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ۱۹۲۴؁ء میں مَیں جب ولایت سے واپس آرہاتھاتوجہاز کا ایک انجینئر مجھے علیحدگی میں لے گیا۔اورکہنے لگاآپ کے ولایت جانے کے لئے تبلیغ تو ایک بہانہ ہے آپ کسی اَوراہم کام کو سرانجام دینے کے لئے گئے ہوں گے۔میںنے کہا۔ہم تو صرف تبلیغ کے لئے ہی گئے تھے اس کے علاوہ اورکوئی کام ہمارے مدنظر نہ تھا۔مگر چونکہ اس کے دل میں یہی جم چکاتھا کہ کسی اورکام کے لئے گئے تھے اورتبلیغ کو آڑ بنالیاتھا وہ کہنے لگا کہ آپ توانگریزوں کے خلاف کسی قسم کی کوشش کرنے گئے ہوں گے اورآپ کا یہ ظاہر کرنا کہ ہم تبلیغ کے لئے گئے تھے ایک بہانہ ہے۔میں نے پھر اسے وہی جواب دیاکہ تبلیغ کے سواہمار اکو ئی اورمدعانہ تھا۔مگر وہ اپنی دھن میں یہی کہتا رہا کہ تبلیغ تو صرف بہانہ ہے۔اس کے بعد وہ کہنے لگا۔میں اپنی خدمات آپ کے پیش کرتاہوں۔آپ میرے سپر دکوئی کام کریں۔اوراگرآپ نے اپنے نمائندوںکو کسی قسم کی مخفی ہدایات پہنچانی ہوں تومیں اس کا م کوبخوبی سرانجام دے سکوں گا اوربڑی حفاظت سے ان تک پہنچا دیاکروں گا۔اس کے بعداس نے مزید اعتبار جمانے کے لئے ایک وزیٹنگ کارڈ VISITING CARD نکالااوراس کے دوٹکڑے پھاڑ کرکہا۔جب آپ مجھے اس قسم کی ہدایات پرمشتمل خط بھیجیں تووزیٹنگ کارڈ کا نصف حصہ اس کے ساتھ مجھے بھیج دیں اوردوسرانصف حصہ اپنے اس نمائندہ کو جس کو وہ خط پہنچاناہوبھیجدیاکریں وہ نمائندہ جب وہ نصف وزیٹنگ کار ڈ دکھا کر مجھ سے آپ کے مخفی خط کا مطالبہ کرے گا تومیں اس کے نصف وزیٹنگ کارڈ کو اپنے والے نصف کے ساتھ ملاکر دیکھ لوں گا۔اوراگر وہ دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے تومیں سمجھ جائو ں گا کہ یہ خط اسی کو دینا ہے۔پھر اس نے مثال دی کہ فرض کرو میں آپ کا خط لے کر وینس میں پہنچا اوروہاں دیکھا کہ ایک ہندوستانی شخص میرے انتظار میں کھڑا ہے وہ جب اپنی جیب سے وہ نصف کارڈ نکال کر مجھے دکھائے گا تومیں اپنے وزیٹنگ کارڈ سے ملا کردیکھو ں گا۔اگر مل گیاتو آپ کا خط اس کو پہنچا دوں گا۔یہ مثال تو اس انجینئر نے اپنی اس غلط فہمی کی بناپر