تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 309

کے نتیجہ میں خود ان لوگوںکا امن مٹ جائے گا۔مگر دنیا میں ہمیشہ مواز نہ کیا جاتاہے۔جب ایک بڑافائدہ چھوٹے فائدہ سے ٹکرا جائے تو اس وقت بڑے فائدے کولے لیاجاتا اورچھو ٹے فائدہ کو قربان کردیاجاتاہے۔اسی طرح کثیر حصہء دنیا کے امن کی خاطر ایک قلیل گروہ سے جنگ کی جاتی ہے اوراس وقت تک اسے نہیں چھوڑاجاتا جب تک وہ خلاف امن حرکات سے باز نہ آجائے۔یہ ایک مختصر ساڈھا نچہ اس تعلیم کاہے جو اسلا م نے قیام امن کے سلسلہ میں دی۔اس سے ہرشخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ اسلام نے کس جامعیت اورتفصیل کے ساتھ اس مسئلہ کو بیان کیاہے جبکہ باقی مذاہب اس مسئلہ پر بالکل خاموش ہیں اورانہوں نے نسل انسانی کی کوئی راہنمائی نہیں کی۔صرف یہ کہہ دینا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے توتم اپنادوسراگال بھی اس کی طرف پھیر دو۔اگر کو ئی شخص تم سے قمیص مانگے تواسے چوغہ بھی اتار دو۔اگر کوئی شخص تمہیں ایک کوس بیگار میں لے جاناچاہے توتم دوکوس چلے جائو۔(متی باب ۵آیت ۳۹تا ۴۱)بین الاقوامی مشکلات کاکوئی حل نہیں کہلا سکتا۔اورنہ عیسائیت اوریہودیت صرف اس تعلیم پر عمل کرکے کبھی دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ اس تعلیم پر عمل امن نہیں بلکہ بد امنی پیداکرنے کاموجب ہے۔اگر کوئی شخص ایک کوس پر اپنے گھر کاسامان لے جاناچاہتاہے۔اورایک مزدورکو وہ زبردستی پکڑ لیتا ہے تومسیحیت کہتی ہے کہ اے مزدور پکڑاجااورمقابلہ نہ کر۔مگرجب اس کاگھر آجا ئے تووہاں ٹھہر نہیں بلکہ ایک کوس اورآگے چلا جا۔اب بتائو اس تعلیم پر عمل کرکے کس کو امن ملا۔دوسرے شخص کو خود اسباب اٹھاکرواپس لاناپڑے گا اورمزدورکو ایک کوس زائد بوجھ اٹھا ناپڑے گا۔گویا دونوںکو بدامنی ملی۔امن نہ ملا۔امن صرف اسی تعلیم پر عمل کرکے قائم ہو سکتا ہے جو اسلام نے پیش کی ہے۔کیونکہ اسلام ایک کتاب مبین پیش کرتاہے جواپنے تمام احکام پر بالتفصیل روشنی ڈالنے والی ہے اورجس کامقابلہ نہ تورات کرسکتی ہے نہ انجیل کرسکتی ہے۔نہ ژند واوستاکرسکتے ہیں اورنہ دنیا کی کو ئی اورکتاب یاصحیفہ کرسکتاہے۔کِتَابٌ مُّبِیْن کے ذکر میں اس امر کابیان کردینا بھی ضروری معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی شناخت کاانحصار صرف ظاہری دلائل اوربراہین پرہی نہیں رکھا بلکہ اس نے کتاب مبین کی سچائی کے لئے ایک اَورکتاب بھی تیار کی ہوئی ہے جسے قرآنی اصطلاح میں کِتَابٌ مَّکْنُوْنٌ کہاجاتاہے۔کتاب مکنون کی مثال اس پانی کی سی ہے جوزمین کے اند رمخفی ہوتاہے اورکتاب مبین کی مثال نہروں،دریائوں اورچشموں کے پانی کی سی ہے جو ظاہر ہوتاہے۔جس طرح نہروں اوردریائو ں یا بادلوں کے پانی کی وجہ سے کنوئوں کا پانی بھی چڑھ آتا