تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 308

رہے ہو جو فطرت کے خلاف ہیں اور میں تم کو ان باتوں کی طرف بلاتاہوں جو تمہاری فطرت میں داخل ہیں۔اب جوںجوں انسان اپنی فطرت کو پڑھنے کی کوشش کرے گااس کادل پکار اُٹھے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جو کتاب ہے و ہ بالکل سچی ہے۔کیونکہ ا س کادوسرانسخہ میرے ذہن میں بھی ہے۔اس طرح آہستہ آہستہ دنیا ایک مرکز پر آجائے گی اورایک ہی خیال پر متحد ہوجائے گی جس کے نتیجہ میں امن قائم ہوجائے گا۔اب ایک اورسوال باقی ر ہ جاتاہے اوروہ یہ کہ بے شک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدرّسِ امن ہیں۔بےشک آپؐ نے امن کا مدرسہ دنیا میں جاری کردیا بے شک امن کا کورس خدا نے مقرر کردیا۔بیشک اسلام نے تعلیم وہ دی ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اورجسے دیکھ کر انسانی فطرت پکار اٹھتی ہے کہ واقعہ میں یہ صحیح تعلیم ہے۔مگر کیا لڑائی بالکل ہی بُری چیز ہے؟ قرآن کریم اس کابھی جواب دیتا اورفرماتا ہے کہ امن کے قیام کے لئے بعض دفعہ جنگ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ(البقرة : ۲۵۲)کہ بیشک امن ایک قیمتی چیز ہے۔بے شک ا س کی تعلیم خدا نے انسانی دماغ میں رکھی ہے۔مگرکبھی انسان کا دماغ فطرت سے اتنا بعید ہو جاتا ہے اورانسانی عقیدے مرکز سے اتنے پر ے ہٹ جاتے ہیں۔کہ وہ امن سے بالکل دورجاپڑتے ہیں۔اورنہ صرف امن سے دورجا پڑتے ہیں بلکہ حرّیتِ ضمیر کوبھی باطل کرناچاہتے ہیں۔فرماتا ہے ایسی حالت میں امن کے قیام اوراس کو وسعت دینے کے لئے ضروری ہوتاہے کہ جو شرارتی ہیں ان کامقابلہ کیاجائے پس وہ جنگ امن ہٹانے کے لئے نہیں بلکہ امن قائم کرنے کے لئے ہوگی۔جیسے اگر انسان کے جسم کا کوئی عضو سڑ گل جائے تو فیس خرچ کرکے بھی انسان ڈاکٹرسے کہتاہے کہ اس عضو کو کاٹ دو۔اسی طرح کبھی ایسے گروہ دنیا میں پیداہوجاتے ہیں جو سرطان اورکینسر کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اورضروری ہوتاہے کہ ان کا اپریشن کیا جائے تاو ہ باقی حصہ قوم کو بھی گند ہ اورناپاک نہ کردیں۔پس فرمایا وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ۔اگر بعض کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بعض کی شرارتوںکو دور نہ کرتا تو لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ۔بجائے امن قائم ہونے کے فساد بڑھ جاتا۔جس طرح سپاہیوں کو بعض دفعہ لاٹھی چارج کا حکم دیاجاتاہے۔اسی طرح فرمایا۔بعض دفعہ ہم بھی اپنے بندوںکو اجازت دیتے اورانہیں کہتے ہیں جائو اورلاٹھی چار ج کرو اس لئے کہ لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ اگر لاٹھی چارج نہ کیاجاتا۔توساری دنیا کاامن برباد ہوجاتا۔وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ لیکن اللہ تعالیٰ صرف ایک قوم کو ہی امن نہیں دیناچاہتا بلکہ وہ ساری دنیا کو باامن دیکھنے کاخواہشمند ہے۔اور چونکہ ان لوگوں سے دنیا کاامن برباد ہوتاہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کا مقابلہ کیا جائے۔تاساری دنیا میں امن قائم ہو۔بیشک اس