تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 307
اس قسم کی لڑائیاںبند ہوں گی پس اخوت و مساوات کاجوسبق توحید سے حاصل ہوتاہے اَورکسی طرح حاصل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کے متعلق دشمن بھی یہ ا قرار کرتاہے کہ اخوت کا جو سبق آپؐ نے دیا اور کسی نے نہیں دیا(MOHAMAD AND TEACHINGS OF QURAN p 114)۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کاسبق الگ کرکے نہیں دیابلکہ آپ نے اصل میں توحید کاسبق دیاجس کالازمی نتیجہ یہ ہواکہ مسلمانوں میں اخوت پیداہوگئی۔مثلاً جب مَیں نماز میں کہوں اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ سب تعریف اسی اللہ کی ہے جوعیسائیوں کا بھی رب ہے۔ہندوئوں کا بھی رب ہے یہودیوںکا بھی رب ہے۔تومیرے دل میں ان قوموں کی نفرت کس طرح ہوسکتی ہے۔جبکہ میں رَبُّ الْعَالَمِیْنَ کے لفظ کے نیچے تمام قوموں اور تمام نسلوں کو لے آتاہوں۔میں جب نماز میں اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتا ہوں تو تودوسرے الفاظ میں میںیہ کہتا ہوں کہ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْمَذَاھِبِ کُلِّھَا۔یعنی میں ا س خدا کی تعریف کرتاہوں جو تمام مذاہب کارب ہے۔اسی طرح جب میں اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتا ہوں تو ا س کے معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْاَقْوَامِ کُلِّھَا یعنی میں اس خدا کی تعریف کرتاہوں جوتمام اقوام کا رب ہے اسی طرح جب مَیں اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتا ہوں تواس کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْبِلَادِ کُلِّھَا یعنی میں اس خدا کی تعریف کرتاہوں جو تمام ملکوں کارب ہے۔اورجب کہ میں تمام اقوام۔تما م ملکوںاور تمام لوگوں میں حسن تسلیم کروںگا تویہ ممکن ہی نہیں کہ میں ان سے عداوت رکھ سکوں۔پس اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ میں بتادیاگیاہے کہ اگر حقیقی توحید قائم ہواوررب العالمین کی حمد سے انسان کی زبان تر ہو تویہ ممکن ہی نہیں کہ کسی قوم کا کینہ انسان کے دل میں رہے اور ایک طر ف تووہ ان کی بربادی کی خواہش رکھے اوردوسری طرف ان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد اورتعریف بھی کرے۔دوسرانکتہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ نازل فرمایا ہے کہ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا یعنی دنیا میں امن تبھی برباد ہوتاہے۔جب انسان فطرتی مذہب کو چھو ڑکررسم و رواج کے پیچھے چل پڑتا ہے۔اگرانسان طبعی اورفطرتی باتوں پر قائم رہے توکبھی لڑائیاں اورجھگڑے نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسلام دین فطرت ہے اورحقیقت یہی ہے کہ جو دین فطرت ہو گا۔وہی دنیا میں امن قائم کرسکے گا اور وہی مذہب امن پھیلاسکے گا جس کاایک ٹکڑا انسان کے دماغ میں ہو۔آخر یہ ہوکس طرح سکتاہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اس تعلیم کی طرف بلائے جس کا جواب ہماری فطرت میں نہیں اورجس کی قبولیت کا مادہ پہلے سے خدا نے ہمارے دماغ اورہمارے ذہن میں نہیں رکھا۔پس فرمایامَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا تم کہہ دو کہ تم ان تعلیمو ں کے پیچھے چل