تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 27
طرح زمین و آسمان کی بادشاہت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اسی طرح ایک عالمگیر روحانی بادشاہت کا بھی نظارہ نظر آتا اور لوگوں کو رب العالمین خدا کے آستانہ کی طرف کھینچا جاتا۔پس الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ درحقیقت دلیل ہے لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا کی اور اس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم کا نزول بلا وجہ نہیں بلکہ یہ الٰہی سکیم کا ایک اہم حصہ ہے جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ وہ تمام سابق شرائع کو منسوخ کر کے اب ایک ایسی شریعت نازل کرے جو تمام عالم کو ایک نقطۂ مرکزی پر جمع کرنے والی ہو اور اس کے لئے ضروری تھا کہ ایسی سواریاں ایجاد ہو جائیںجو ساری دنیا کی طنابیں کھینچ لیں۔چنانچہ قرآن کریم نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کا ذکر کر کے فرما دیا تھا کہ وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ( النحل :۹) یعنی اللہ تعالیٰ آئندہ زمانہ میں ایسی سواریاں پیدا کرنے والا ہے جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہیں اور اس طرح دنیا کو ایک نقطۂ مرکزی پر جمع کرنے والا ہے مگر چونکہ یہ عالمگیر مذہب کا تصور اور خدائے واحد کی زمین و آسمان کے ذرّہ ذرّہ پر حکومت کا عقیدہ اُن مذاہب میں کھلبلی ڈالنے والا تھا جو ابنیت کے قائل تھے یا نبیوں کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی ان باطل مذاہب کے خیالات کی بھی تردید کی اور فرمایا وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا۔خدا تعالیٰ کی آسمان اور زمین کے ذرّہ ذرّہ پر حکومت تو ہے مگر یہ خیال درست نہیں کہ اُس کا کوئی بیٹا ہے جو اُس کی مدد کرتا ہے بلکہ بیٹا ہونا تو الگ رہا وہ بیٹے کے مقام پر بھی کسی کو کھڑا نہیں کرتا یعنی اس حد تک بھی اس کو اپنے ساتھ مشابہت نہیں دیتا جس قدر کہ بیٹے کو اپنے باپ سے مشابہت ہو تی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائی حضرت مسیح ؑ کو خدا تعالیٰ کے بیٹے کی شکل میں پیش کرتے ہیں لیکن حضرت مسیح ؑ کی تاریخ اتنی مبہم ہے اور اس پر اتنے حجاب پڑے ہوئے ہیں کہ مسیحیت کی تعلیم کی صداقت عقلی طور پرقیاس میں بھی نہیں آسکتی سوائے اس کے کہ اس تعلیم کے مطابق عیسائیوں میں ایسے لوگ موجود ہوں جن کو دیکھ کر اس تعلیم کی سچائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہو لیکن ایسے نمونے نہ عیسائی دنیا میں موجود ہیں اور نہ آئندہ پید اہو سکتے ہیں۔مثلاً حضرت مسیح ؑ نے کہا تھا کہ ’’ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو اس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ سرک کر وہاں چلا جا اور وہ چلا جائےگا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہو گی۔‘‘ ( متی باب ۱۷ آیت ۲۰) اب اگر عیسائیوں کے قول کے مطابق حضرت مسیح ؑ مردے زند ہ کیا کرتے تھے ( یوحنا باب ۱۱ آیت ۴۳، ۴۴) اور اُن کے دلوں میں مسیح ؑ پر ایک رائی کے برابر بھی ایمان پایا جاتا ہے تو اُن کا فرض ہے کہ وہ مسیح ؑ کی ابنیت ثابت