تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 26
گے مگر تمہاری یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیںگی بلکہ زمین وآسمان کا خدا تمہیں تخت و تاج کا وارث بنا دےگا اور اس طرح ساری دنیا پر ثابت ہو جائےگا کہ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ خدا تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں ہی ہے جس نے اس عالمگیر انذار سے فائدہ اٹھانےوالوں کو بادشاہ بنا دیا اور بادشاہوں کو ان کے انکارکی سزا میں گدا بنا دیا۔پھرالَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ جس طرح خدا تعالیٰ کی ملکیت اور اس کا فیضان کسی ایک قوم یا ملک کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ پر اس کی حکومت ہے اسی طرح ضروری تھا کہ کسی وقت تمام قوموں اور افراد کو ایک نقطۂ مرکزی پر جمع کرنے کا بھی سامان پیدا کیا جاتا تاکہ جس طرح زمین و آسمان کا خدا ایک ہے اسی طرح وہ ساری دنیا کو ایک روحانی نقطہ پر بھی جمع کر دے۔اگر قرآن کریم دنیا میں نہ آتا اور وہ ساری دنیا کو مخاطب نہ کرتا تو ایک عالمگیر روحانی بادشاہت کا کبھی قیام نہ ہو سکتا۔بیشک ابتدائی زمانوں میں جب آمدورفت کے ذرائع محدود تھے اور ایک ملک کی آواز دوسرے ملک میں نہیں پہنچ سکتی تھی ضروری تھا کہ مختلف ممالک اور مختلف اقوام میں اُس کے ہادی اور رہنما آتے تاکہ دُنیا کا کوئی خطہ اُس کی ہدایت سے محروم نہ رہتا مگر جب ممالک آباد ہونے شروع ہوئے اور آبادیوں کے فاصلے کم ہوتے چلے گئے اور نسلِ انسانی نے دماغی لحاظ سے بھی ارتقاء شروع کیا اور ذرائع آمدورفت میں بھی ترقی ہونے لگی۔بیلوں کی جگہ گدھوں نے لے لی اور موٹروں اور ریلوں کی جگہ ہوائی جہازوں نے لے لی اور زمین کی طنابیں بالکل کھچ گئیں اور پھر ہوائی جہازوں نے ترقی کرتے کرتے ایسا مقام حاصل کر لیا کہ بارہ گھنٹہ میں ساری دنیا کا چکر لگ سکتا ہے۔بلکہ تازہ اطلاع تو یہ ہے کہ اب ایک ایسا ہوائی جہاز بھی نکل آیا ہے جو ایک سیکنڈ میں پندرہ میل چل سکتا ہے گویا ایک منٹ میں نو سو میل اور ایک گھنٹہ میں ۵۴ ہزار میل اور بارہ گھنٹہ میں چھ لاکھ اڑ تالیس ہزار میل جس کے معنے یہ ہیں کہ بارہ گھنٹے میں وہ کئی دفعہ دنیا کا چکر لگا سکتا ہے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک عالمگیر بادشاہت کا قیام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ فرما دیا۔اگر قرآن نازل نہ ہوتا تو دنیا پر خدا تعالیٰ کی ملکیت اپنی پوری شان سے ظاہر نہ ہو سکتی۔دریا کی شان اُسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جب پہاڑی نالے اس میں گِر کر اُسے ایک بحرِ ذخار کی صورت میں تبدیل کر دیں۔موسیٰ ؑ اور عیسٰی ؑ اور زرتشت اور کرشن اور دوسرے تمام انبیاء چھوٹی چھوٹی نہریں تھیں جن میں سے کوئی نہر بنی اسرائیل کی سیرابی کے لئے جاری کی گئی تو کوئی ایران کی پیاس بجھانےکے لئے جاری کی گئی۔کوئی ہندوستان کے لوگوں کی تشنہ لبی فرو کرنےکے لئے اُن کے ملک میں جاری کی گئی تو کوئی چین کی سرزمین میں وہاں کے باشندوں کی روحانی پیاس بجھانےکے لئے جاری کی گئی مگر ان تمام نالوں اور نہروں کا ایک عظیم الشان دریا میں مل جانا ضروری تھا تاکہ جس