تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 28
کرنےکے لئے مُردے زندہ کر کے دکھائیں۔اور اگر مسیح ؑ بغیر کشتی اور جہاز کے پانی پر چلتے تھے (متی باب ۱۴ آیت ۲۵) توعیسائی بھی جہازوں کے بغیر سمندروں پر چل کر دکھائیں۔مگر وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے جس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ نہ تو اُن کے دلوں میں حضرت مسیح ؑ پر کوئی ایمان ہے اور نہ وہ انجیلی تعلیم کی صداقت کا دنیا کے سامنے کوئی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔پس ان کا یہ کہنا کہ مسیح ؑ خدا کا بیٹا تھا ایک زبانی دعوے سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا لیکن اس کے علاوہ یہ امر خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی شان کے بھی بالکل منافی ہے کیونکہ بیٹے کی ضرورت اُسی وقت تسلیم کی جاسکتی ہے جب خدا تعالیٰ کے لئے فنا کا امکان ہو لیکن اگر اس کے لئے فنا ہی نہیں تو ابنیت کا مسٔلہ کس طرح درست ہو سکتا ہے اس مادی عالم میں دیکھ لو کہ سورج اور چاند اور پہاڑ اور دریا وغیرہ کے ساتھ بیٹوں کا سلسلہ جاری نہیں کیاگیا۔کیونکہ انہوں نے اپنی ضرورت کے پورا ہونے تک خود قائم رہنا ہے لیکن انسان چونکہ فانی وجود ہے اس لئے اسے بیوی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور بچوں کی خواہش بھی اس کے دل میں پائی جاتی ہے۔اور جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ اُسے مبارک باد دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اُس کے نام کو قائم رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا فرما دیا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق اس قسم کی کوئی بات تسلیم نہیں کی جا سکتی اس لئے ایک زندہ اور حی و قیوم خدا کو تسلیم کرتے ہوئے کسی کو خدا کا بیٹا قرار دینا ایک نہایت ہی جاہلانہ اور خدا تعالیٰ کی ہتک کرنے والاعقیدہ ہے۔پھر فرماتا ہے وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ ایک اور امتیاز اس کے اندر یہ پایا جاتا ہے کہ اس کی بادشاہت میں اور کوئی شریک نہیں۔دنیوی بادشاہوں کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ کہیں بادشاہوں کے خلاف ان کی بیگمات جوڑ توڑ کر رہی ہوتی ہے کہیں شہزادے اپنے باپ کا تخت حاصل کرنے کے لئےاسے قتل کرنے کے منصوبے سوچ رہےہوتے ہیں کہیں وزراء اور امراء اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہوتے ہیں اور موقعہ ملتے ہی وہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو فرقان نازل کیا اس میں اس نے بنی نوع انسان کو یہ خوشخبری دی کہ دیکھو کہ تمہارا خدا وہ ہے کہ جس کے قبضہ و تصرف میں زمین آسمان کا ذرہ ذرہ ہے اور پھر نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ اس کی مملکت میں کوئی اور شریک ہے کہ تمہیں ادھر بیٹے کی چاپلوسی کرنی پڑتی ہے ادھر بیگمات کی خوشامدیں کرنی پڑتیں۔ادھر وزاء اور امراء کو خوش کرنے کے لئے کئی قسم کے پاپڑ پیلنے پڑتے۔تمہارا خدا وحدہ لاشریک ہے اور اس کی محبت کسی اور کے ساتھ بٹی ہوئی نہیں نہ کوئی جابر حاکم اس کی بادشاہت میں شریک ہے کہ تمہیں اس کو خوش کرنے کا فکر ہو۔تمہیں اکیلے اور واحد خدا کی پرستش کا حکم دیا گیا ہے۔پس تمہارا سر ہر حالت میں اس کے آستانہ پر جھکا رہنا چاہیے اور اسی کی آواز پر لبیک کہنا تمہارا شعار ہونا چاہیے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی واحدانیت کے ثبوت