تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 295
اوراس نے کہا۔یارسول اللہ!آپؐ بڑے رحیم و کریم ہیں۔آپ نے کتنے ہی لوگوںکومعاف کردیا ہے اگر عکرمہؓ کو بھی آپ معاف فرما دیں تواس میں آپ کاکیاحرج ہے۔پھر اس نے کہا۔یارسول اللہ ! کیا یہ بہتر ہے کہ عکرمہؓ کسی غیر ملک میں ذلیل ہوکر رہے یایہ بہتر ہے کہ وہ آپ کے ملک میں آپ کی رعایابن کر رہے اورآپ کاعفو اس کے سرکو نیچا رکھے۔آپ کو اس کی یہ بات پسند آئی۔اورآپؐ نے فرمایا۔ہم نے عکرمہؓ کو معاف کردیا۔یہ سن کر اس کی بیوی اسی وقت اٹھی اوراپنے خاوند کی تلاش میں چل پڑی۔وہ اس وقت حبشہ جانے کے لئے کشتی میں بیٹھ چکا تھا۔اس کی بیوی اس کے پاس گئی اوراس نے کہا۔تم کہاں جارہے ہو۔واپس میرے ساتھ چلو۔میں نے تمہارے متعلق محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی تھی اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں معاف فرما دیاہے۔عکرمہؓ یہ سن کر حیران ہوا۔اوراس نے کہا۔مجھے کس طرح معافی مل سکتی ہے میں نے توبڑے بڑے سخت مظالم کئے ہوئے ہیں۔اس نے کہا۔تمہیں ان کے وسعت حوصلہ کاکیاعلم؟ میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ میں تمہارے لئے معافی کی منظور ی لے چکی ہوں۔تم واپس میرے ساتھ چلو۔عکرمہؓ کشتی سے اترے اورواپس آگئے۔واپسی پر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اورانہوں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ! میری بیوی میرے پاس آئی تھی اوراس نے کہا تھاکہ میںنے تمہارے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی لے لی ہے۔کیایہ سچ ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں!بالکل سچ ہے۔ہم نے تمہیں معاف کردیاہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ہم نے تمہیں سچے دل سے معاف کردیا ہے تواس نے عر ض کیاکہ کیا میں کافر ہونے کی حالت میں مکہ میں رہ سکتا ہوں۔آپؐ نے فرمایا۔ہاں تم رہ سکتے ہو۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اوراس کے باپ ابوجہل کے متواتراورشدید ترین مظالم کے باوجود اسے معاف فرما دیا اورمعافی بھی اس رنگ میں دی کہ خواہ وہ اسلام نہ لائے اسے مکہ میں آزادانہ رنگ میں رہنے کی اجازت ہوگی تواس کی طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہواکہ اس نے کہا۔یارسول اللہ! میں آپ پر ایمان لاتاہوں کیونکہ میں سمجھتاہوں کہ اس قسم کی معافی سوائے خداکے راستباز انسان کے اَورکوئی نہیں دے سکتا(السیرۃالنبویۃ لابن ہشام ذکر الاسباب الموجبة المسیر الی المکة۔۔۔و اسد الغابة عکرمۃ بن ابی جھل)۔پھریاتو اس کے دل میں اتنا بغض تھا کہ وہ ا س ملک میں بھی رہنانہیں چاہتاتھا جس میں رسول کریم صلی اللہ تھے اوریاپھر اس کے دل میں اتنا تغیر پیداہواکہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکرمہؓ ہم نے تمہیں معاف ہی نہیں کیا بلکہ ہم تمہیں انعام بھی دینا چاہتے ہیں مانگوجوکچھ مانگنا چاہتے ہو۔تووہ عکرمہؓ جو اتنا دنیادار تھا اس کے اندر فوراً ہی اتنی تبدیلی پیداہوگئی کہ اس نے کہا کہ یارسول اللہ! میں سوائے اس کے اَورکچھ نہیں