تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 296

مانگتا کہ آپ میرے لئے دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ میرے پچھلے تمام گناہ معاف فرمادے (کتاب المغازی للواقدی جلد ۲ صفحہ ۸۵۱ تا ۸۵۵)۔اب کُجایہ کہ وہ مکہ سے بھاگ جاتاہے اورکجایہ کہ مسلمان ہوتاہے اوریکدم اس میں ایسی تبدیلی پیداہوتی ہے کہ وہ سب مخالفانہ خیالات کو بھول جاتاہے۔پھر یہی عکرمہؓ تھا کہ یاتورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان لینے کے لئے لڑائیاں کیاکرتاتھا اوریا پھر اسلام میں اس کی فدائیت یہاں تک پہنچ گئی کہ غزوئہ یرموک میں جب بہت سے صحابہؓ مارے گئے توعکرمہؓ اورچنداورنوجوانوں نے مل کر حضرت ابوعبیدہؓسے جوکمانڈرانچیف تھے کہاکہ ہم سے صحابہؓ کی موت نہیں دیکھی جاسکتی۔اگریہ لوگ مارے گئے تواسلام کی اشاعت کون کرے گا۔آپ ہمیں اجاز ت دیں کہ ہم چند نوجوان اپنی جانوں کو قربان کرکے عیسائی کمانڈرپرحملہ کرکے اسے ماردیں اورلڑائی ختم ہوجائے۔ابوعبیدہؓ نے کہا کہ یہ تو بڑا مشکل ہے۔دس لاکھ لشکر کے مقابلہ میں میں تمہیں کس طرح بھیج سکتاہوں۔اس میں توتمہاری یقینی ہلاکت ہے۔مگر آخر دوسرے لوگوں نے کہا کہ جب یہ لوگ قربانی کرناچاہتے ہیں توانہیں قربانی کی اجازت دےدیں۔اور چونکہ ا س جنگ میں بہت سے صحابہؓ مارے جاچکے تھے ابوعبیدہؓ نے آخر اجازت دے دی۔چنانچہ عکرمہؓ اورچنددوسرے نوجوانوں نے ملکر قلبِ لشکر پر حملہ کیااوروہاں تک پہنچ گئے جہاں ان کا کمانڈرماہان تھا۔و ہ اس قدر گھبرایاکہ تخت سے اتر کر بھاگ پڑا۔اوراس کے بھاگتے ہی فوج میں بھاگڑ مچ گئی اورلڑائی کاپانسہ پلٹ گیا۔مگر اس جدوجہد میں وہ قریباً سب کے سب شہید ہوگئے۔اسی جنگ کاواقعہ ہے کہ عکرمہؓ زخموں کی شدت اورپیاس کی و جہ سے تڑپ رہے تھے کہ ان کے پاس سے ایک سپاہی گذراجس کے پاس پانی کی ایک چھاگل تھی۔اس نے جب انہیں تڑپتے دیکھا تووہ قریب آیا۔اوراس نے پوچھا کیا آپ کو پیا س لگی ہے۔انہوں نے کہا۔ہاں۔اس نے اپنی چھاگل اس کے منہ کے قریب کی تاکہ آپ پانی پی لیں۔مگرابھی عکر مہؓ نے چھاگل کومنہ نہیں لگایاتھا کہ ان کی نظر فضل بن عباسؓ پرپڑی جوان کے قریب ہی پیاس سے تڑپ رہے تھے انہوں نے کہا۔فضل مجھ سے زیادہ پیاسامعلوم ہوتاہے تم اسے پانی پلائو۔وہ فضل کے پاس پہنچا توانہوں نے اپنے قریب ایک اورمسلما ن کو تڑپتے دیکھا انہوں نے کہا وہ مجھ سے زیادہ پیاسامعلوم ہوتاہے تم پہلے اسے پانی پلائو۔وہ تیسرے کے پاس پہنچا تواس نے چوتھے کی طرف اشارہ کردیا۔اورچوتھے کے پاس پہنچا تواس نے پانچویں کی طرف اشارہ کردیا۔تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سات آدمی تھے اورساتوں ہی تڑپ رہے تھے مگر ہر ایک نے یہی کہا کہ مجھے پانی نہ پلائو بلکہ میرے ساتھی کو پلائو۔جب وہ آخری آدمی کے پاس پہنچا تووہ مر چکا تھا۔اورجب وہ واپس مڑاتواس نے دیکھا کہ باقی چھ بھی فوت ہوچکے تھے۔اب دیکھو یہ کتنی بڑی قربانی ہے جوعکرمہؓ نے کی۔حالانکہ وہ اسلام کے شدید ترین دشمن تھے۔پس یہ