تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 294

اصل فطرت ہے دونوں کو ہم نے عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔بعض لوگ کہاکرتے ہیں کہ فلاں شخص کو ہم کیا سمجھائیں ا س میں تونیکی کامادہ ہے ہی نہیں۔بعض لوگ کہاکرتے ہیں کہ فلاں شخص بڑامتعصب ہے وہ ہدایت پا ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تم ایسامت کہو۔اس کی طبیعت اولیٰ نیکی کی طرف مائل ہے۔یہ تمہاری غلطی ہے کہ تم اس کی طبیعت ثانیہ کو دیکھتے ہواورایک نتیجہ اخذ کرلیتے ہو۔ہم نے توسب کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے۔اگر کسی کی فطرت صحیحہ پرپردہ پڑاہواہے تویہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص نیل کے مٹکے میں پڑے تووہ نیلا ہو جاتا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ آدمی نہیں رہا۔یابعض لوگ ریچھ کی کھال پہن لیتے ہیں اوردیکھنے والے ڈرنے اوربھاگنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ وہ انسان ہوتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی فطرتیں ماحول کی خرابی کی وجہ سے مسخ ہوجاتی ہیں اوران کی ظاہری شکل جنّات والی ہوجاتی ہے۔چنانچہ وہ لوگ بھی جو غیر مرئی جنات کے قائل ہیں اورہم پر یہ اعتراض کیاکرتے ہیں کہ یہ لو گ جنّوں کے قائل نہیں وہ بھی بعض دفعہ ایسے انسانوںکو جن کی فطرت پرپردہ پڑچکاہوتاہے جنّ کہنے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ وہ شخص جس کے اخلا ق بگڑے ہوئے ہوں اسے دیکھتے ہیں توکہتے ہیں یہ بھیڑیاہے جس سے ان کایہ مطلب نہیں ہوتا۔کہ وہ حقیقی معنوں میں بھیڑیاہے بلکہ یہ مطلب ہوتاہے کہ اس پر بھیڑیے والی خصلت غالب آگئی ہے۔اسی طرح کسی کے متعلق کہتے ہیں یہ توسانپ ہے۔یعنی سانپ کی طرح لوگوںکو ڈستا پھرتاہے۔یابچھو ہے یعنی بچھو کی طرح لوگوںکو ڈنگ مارتا ہے۔توبعض دفعہ فطرت ثانیہ فطرت اولیٰ پر غالب آجاتی ہے کہ یہ پہچاننا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ ا س شخص کی انسانیت کہاں ہے۔لیکن جب اس کی فطرت صحیحہ بول اٹھتی ہے تب پتہ لگتاہے کہ اس کے اندرنیکی پائی جاتی ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے کتنے شدید دشمن تھے۔مگرپھر ان میں کیسی تبدیلی پیداہوئی۔نہ صرف ان کی اصلاح ہوئی بلکہ وہ روحانیت کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے کہ ان کا پہچاننابھی مشکل ہوگیا۔حضرت عمرؓ جو اسلام اورمسلمانوںکے خلاف لٹھ لئے پھرتے تھے جب انہیں اسلام لانانصیب ہواتوان میں ایسی تبدیلی پیداہوئی کہ دنیاکے فائدہ کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے لگے۔اوردن رات اسلام کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔یہی حال عکر مہؓ کا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا۔توعکرمہؓ اس بغض کی وجہ سے جواسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھامکہ چھو ڑ کرچلاگیا اوراس نے کہا۔میں اس ملک میں بھی نہیں رہ سکتا جس میں ایساشخص موجود ہو۔اس کے مظالم کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کردیاتھا کہ اسے معافی نہیں دی جاسکتی وہ جہاں مل جائے اسے قتل کردیاجائے۔آخر اس کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔