تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 288

بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں ان کو اتار کرمیرے پاس لے آئو۔چنانچہ سب لوگ ان کے کانوں سے سونے کی بالیاں اتار اتار کران کو ہارون کے پاس لے آئے اور اس نے ان کو ان کے ہاتھوں سے لے کر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا جس کی صورت چھینی سے ٹھیک کی۔تب وہ کہنے لگے اے اسرائیل یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کرلایا‘‘ (خروج باب ۳۲آیت ۱تا۴) مگر قرآن نے آکر بتایاکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔حضرت ہارون ؑ نے اپنی قوم کو شرک سے بڑی سختی کے ساتھ روکاتھا اور کہاتھا کہ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْ(طٰہٰ :۹۱) یعنی اے میری قوم اس بچھڑے کے ذریعہ تمہاراایمان خراب کردیا گیاہے اور تمہارا رب تو رحمان ہے اور یہ ایک ذلیل اور بیجان بچھڑا ہے۔پس تم میری فرمانبرداری کرو۔اور میرے پیچھے چلوسامری کے پیچھے نہ چلوجس نے تمہیں اس شرک کی طرف مائل کیا ہے۔غرض بائیبل نے خدا تعالیٰ کے ایک مقدس نبی ہارون ؑ کو داغدار قرار دیا مگر قرآن کریم جو مبین کے مقام پر ہے اس نے آکر بتایا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے خدا تعالیٰ کافرستادہ ہارون ؑ اپنی قوم کو ہمیشہ توحید کا ہی وعظ کرتا رہا۔یہ قوم کی بدبختی تھی کہ وہ سامری کے پیچھے چل پڑی اور اُس نے ایک بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام پربھی یہودیوں اور عیسائیوں نے بعض خطرناک قسم کےالزامات لگائے تھے جن کی قرآن کریم نے بڑے زور سے تردید کی اور بتایا کہ وہ تمام الزامات دشمنوں کا افتراء ہیں۔مثلاً یہود کہتے تھے کہ آپ کی پیدائش نعوذ باللہ بدکاری کے نتیجہ میں ہوئی تھی۔یعنی یوسفؔ کے نطفہ سے بغیر شادی کے آپ پیدا ہوئے ( انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جلد۵ صفحہ ۱۰۲زیر لفظ CELSUS )اسی طرح بعض یہودی یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ نعوذ باللہ ایک رومی سپاہی سپنیتھراؔ کے بیٹے تھے جن کا حضرت مریم صدیقہ سے ناجائز تعلق تھا ( جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ JESUS) مگر قرآن کریم نے حضرت مریم ؓ کو اس الزام سے پاک ٹھہرایا اور یہ اعلان فرما دیا کہ وَالَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْھَا مِنْ رُّوْ حِنَا وَجَعَلْنَا ھَا وَابْنَھَآ اٰیَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ (الانبیاء : ۹۲)یعنی مریم صدیقہؓ نے جو حضرت مسیح ؑ کی والدہ مطہرہ تھیں اپنے تمام سوراخوں کو گناہ سے محفوظ رکھا تھا۔اور اُن کو جو حمل ہوا وہ ناجائز نہیں تھا بلکہ ایک پاک روح تھی جو اُن کے اندرہم نے داخل کی اور ہم نے اُس کو اور اُس کے بیٹے عیسیٰ ؑ کو تمام دُنیا کے لئے ایک نشان بنا دیا۔