تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 287
’’ خداوند سلیمان سے ناراض ہوا کیونکہ اُس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے پھر گیا تھا۔‘‘ پھر یہ شرک سلیمانؑ نے ایسی حالت میں کیا جبکہ خدا تعالیٰ نے ’’دوباردکھائی دے کر اُس کو اس بات کا حکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے۔پر اُس نے وہ بات نہ مانی جس کا حکم خداوند نے دیا تھا۔‘‘ (۱۔سلاطین باب۱۱ آیت ۹,۱۰) گویا سلیمانؑ نعوذ باللہ اتنا خطرناک کافر تھا کہ دودفعہ خدا اُس پر ظاہر ہوا اور دودفعہ اُس نے ظاہر ہو کر کہا۔کہ دیکھنا غیر معبودوں کی پرستش نہ کرنا۔مگر پھر بھی وہ اپنی بیویوں کے حسن کو دیکھ کر ایسا فریفتہ ہوا کہ اس نے غیر معبودوں کے لئے مندر بنائے اور ان کے آگے سجدہ کرنے لگ گیا مگر قرآن کریم نے آکر بتایا کہ وَمَاکَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْا( البقرۃ :۱۰۳)سلیمان نے کفر کی کوئی بات نہیںکی بلکہ اس پر الزام لگانے والے اوراسے کافر اور مشرک قرار دینے والے خود کافر اور بے ایمان تھے چنانچہ تاریخی شہادتیں بھی یہی بتاتی ہیں کہ جو قرآن نے بات کہی ہے وہی ٹھیک ہے اور بائیبل کی بات غلط ہے۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا ببلیکامیں لکھا ہے۔’’یہ بات توصحیح ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کی بہت سی بیویاں تھیں کچھ اسرائیلی اور کچھ غیر اسرائیلی۔لیکن نہ تو انہوں نے ان سب کے لئے قربان گاہیں بنائی تھیں اور نہ انہوں نے اپنی بیویوں کے دیوتائوں کی عبادت کو کبھی خدا تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ملایاتھا۔آپ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے انکار کاکبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔‘‘ (زیر لفظ SOLOMON) گویا تاریخ نے تسلیم کرلیا کہ بے شک حضرت سلیمان علیہ السلام کی کئی بیویاںتھیں کچھ یہودی اور کچھ غیر یہودی مگر یہ غلط ہے کہ انہوں نے بت خانے بنائے اور پھر یہ بھی جھوٹ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی بت کو سجدہ کیاہو۔اب دیکھو بائیبل توکہتی ہے کہ انہوں نے بتوں کو سجدے کئے اور قرآن کہتاہے کہ نہیں کئے اور آج کایہودی محقق اور آج کا عیسائی محقق بھی کہتاہے کہ بائیبل جھوٹ کہتی ہے سچی بات وہی ہے جو قرآن کہہ رہاہے۔پھر بائیبل میں حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو بچھڑابنا کردیا اور انہیں شرک کی راہ پر چلایا۔چنانچہ بائیبل میںلکھا ہے۔’’اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اترنے میں دیر لگائی تووہ ہارون کے پاس جمع ہوکراس سے کہنے لگے کہ اٹھ ہمارے لئے دیوتا بنادے۔جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰ کو جوہم کوملک مصر سے نکال کرلایاکیاہوگیا ہارون نے ان سے کہا۔تمہاری