تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 289
اِسی طرح عیسائی آپ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ صلیب پر لٹک کر لعنتی موت مرے۔چنانچہ عہدنامہ جدید میں پولوس کہتا ہے :۔’’مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اُس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے جو کوئی لکڑی پر لٹکایاگیا وہ لعنتی ہے۔‘‘ (گلتیوں باب ۳آیت ۱۳) گویا عیسائیوں نے خدا تعالیٰ کے ایک مقرب کو اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ملعون قرار دے دیا۔مگر قرآن کریم نے اس الزام کو بھی ردّ کیا اور خود حضرت مسیح ؑکی زبان سے ان الفاظ میں تردید کی کہ وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (مریم : ۳۴)یعنی جو لوگ مجھ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ میری پیدائش حرامکار ی کے نتیجہ میں تھی وہ غلط کہتے ہیں۔کیونکہ میری پیدائش پر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہوئی تھی اور جو لوگ یہ کہیں گے کہ میں لعنتی موت مراوہ بھی غلط کہیں گے۔کیونکہ میری موت بھی خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوگی اور لعنت کی موت سے میں بچایاجائوں گا۔اورجو لوگ یہ کہیں گے کہ میں دوسروں کے گناہ اُٹھا کر تین دن جہنم میں پڑارہا۔وہ بھی غلط کہیں گے کیونکہ میری دوبارہ حیات بھی خدا تعالیٰ کی سلامتی سے شروع ہوگی۔غرض قرآن کریم ان تمام اعتراضات کو ردّکرتاہے جو بائیبل میں لوگوں کی دست اندازی کی وجہ سے شامل ہوچکے تھے۔اوراپنے فرستادوں کوایک بے عیب شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرتاہے۔اسی قسم کے الزامات ہندوئوں نے بھی اپنے بعض رشیوں اوراوتاروں پر لگائے ہیں۔مثلاً حضرت کرشن کے متعلق لکھا ہے کہ ان کی والد ہ نے انہیں کہا کہ ’’بیٹا !نولاکھ گائیں میرے یہاں دودھ دینے والی ہیں جتنا دودھ ماکھن چاہیے کھایااورلٹایا کرو۔دوسروں کے گھر ماکھن کھانے اورچُرانے مت جایاکرو۔‘‘ (مھا رشی وید بیاس شریمد بھاگوت پُران اسکندھ نمبر۱۰ نمبر۸؍۱۰ ) گویا حضرت کرشن نعوذ باللہ مکھن چُراچُراکر کھا یا کرتے تھے حالانکہ ان کے اپنے گھر میں نولاکھ گائے تھی۔اسی طرح لکھا ہے کہ وہ غیرعورتوں کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول رہاکرتے تھے اورایک عورت کاخاص طور پر نام لے کر لکھا ہے کہ حضرت کرشن نے رات کے وقت اسے جگاکرکہا کہ ’’اے سندری!نیند کو چھوڑ کر مجھ کو شرنگار دان (یعنی دادِ عیش)دے۔‘‘ (برہم دی درت پران کرشن جنم کھنڈ نمبر ۴ ادھیائے نمبر ۷۲)