تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 25

شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا۔یعنی لوگوں کی نجات اور اُن کی اُخروی فلاح و بہبودکے لئے یہ عظیم الشان کتاب نازل کرنے والا وہ خدا ہے جس کے قبضہ و تصرف میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے جس نے نہ کوئی بیٹا بنایا ہے اور نہ اُس کی بادشاہت میں کوئی شریک ہے۔اُس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے اور پھر ہر چیزکے لئے اُس نے ایک اندازہ بھی مقرر کیا ہے جو زبانِ حال سے پکا ر پکار کر کہہ رہا ہے کہ خدا بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر عیب اور نقص سے پا ک ہے۔چونکہ اسلام ایک ایسا مذہب تھا جس نےلِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا کے ماتحت دنیا کے ہر مذہب اور ہر قوم کو مخاطب کرنا تھا اس لئے لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اسلامی علماء کو دنیا کی تمام زبانیں سیکھنی چاہئیں۔لیکن افسوس کہ سوائے کالجوں کے طالب علموں کے کوئی غیر زبان نہیں سیکھتا۔اور وہ بھی صرف انگریزی سیکھتے ہیں جو ساری دنیا کی زبان نہیں۔چاہیے کہ ہمارے علماء انگریزی ، فرانسیسی ،جرمنی ، روسی پرتگیزی ، ہسپانوی ،لاطینی اور دلندیزی وغیر ہ سب زبانیں جانتے ہوں اسی طرح سیام کی زبان اور جاپان کی زبان اور فلپائن کی زبان اور دوسرے تمام ممالک کی زبانیں اُن کو آتی ہوں تاکہ ہر جگہ وہ قرآن کریم کو پھیلا سکیں۔ہمارے احمد ی مبلغین کو بھی اس طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے۔بعض مبلغ دس دس سال سے مغربی افریقہ میں کام کر رہے ہیں لیکن ابھی تک انہیں وہاں کی زبان پوری طرح نہیں آئی۔زبان کا سیکھنا قرآن کریم کے پھیلانےکے لئے نہایت ضروری ہے۔جو مبلغ اس طرف توجہ نہیں کرتا وہ مبلّغ کہلانے کا مستحق ہی نہیں وہ اسلام کا ایک غدار سپاہی ہے عرب لوگ اسلام کی ترقی کے زمانہ میں دنیا کی ہر زبان جانتے تھے۔پھر دنیا کے تمام مذاہب پر تبلیغی حملہ کرنے کے نتیجہ میں چونکہ لازمی طور پر مخالفت کا ایک طوفان اُمنڈ آنا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نےلَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کہہ کر مخالفوں کو بھی بتا دیا کہ دیکھو تم اپنی طاقت پر گھمنڈ مت کرو۔بیشک تمہارے ساتھ بڑے بڑے جتھے ہیں۔بڑے بڑے ملک تمہارے ساتھ ہیں بڑی بڑی حکومتیں تمہاری تائید میں ہیں۔لیکن آسمانوں اور زمین کی اصل حکومت خدا تعالیٰ کے قبضہ اور تصرف میں ہے۔تمہارے پاس تو یہ حکومتیں محض ایک امانت کے طور پر ہیں اس لئے اگر تم نے اس امانت میں خیانت کی اور ہمارے اس پیغام کو ٹھکرا دیا تو یاد رکھو کہ زمین و آسمان کا خدا تمہارے اس انکار کو دیکھ کر خاموش نہیں رہےگا۔بلکہ اس کی غیرت بھڑکےگی اور وہ تمہیں اس کی سزا دے گا۔اورپھر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کہہ کر یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ ان کفار کے مظالم سے پریشان نہ ہونا۔بیشک یہ تمہیں اپنے وطنوں سے بے وطن کر دیں گے تمہاری جائیدادیں چھین لیں گے۔تمہارے مال اور املاک کو اپنے قبضہ میں لے لیں