تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 24
بھی معلوم کر سکتا ہے اور محاسن بھی وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کی آنکھیں چھوٹی ہیں یا بڑی۔اس کا چہرہ کیسا ہے۔اُس کا سر چھوٹا ہے یا بڑا۔اس کے اعضاء کا تنا سب کیسا ہے ؟ اگر کوئی شخص تصویر کو دیکھ کر یہ کہے کہ اس کا سر چھوٹا ہے تو تم یہ نہیں کہو گے کہ یہ تو تصویر ہے اصل نہیں۔اگر تم یہ جواب دو گے تو ہر شخص تمہیں پاگل سمجھے گا۔کیونکہ تصویر اصل انسان کا انعکاس ہوتا ہے۔اسی طرح اگر تم صحیح طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر نہیں بنتے تو تم باقی دنیا کو اعتراض کرنےکا موقعہ دیتے ہو۔لیکن اگر تم اپنی زندگیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بنا لو تو تم تمام دنیاکے لئے نذیر بن جائو گے اُس وقت یہ سوال ہی نہیں ہوگا کہ تم پڑھے ہوئے ہو یا اَن پڑھ ہو۔لائق ہو یا نالائق ہو۔بلکہ ہر حالت میں تم دنیا پر غالب آئو گے کیونکہ تمہارے وجود میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ لوگوں کو نظر آرہا ہو گا۔پس اس آیت میں تین چیزیں بیان کی گئی ہیں جن کو مدنظر رکھے بغیر کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارا انذار ہر قوم کی طرف ہو۔اور ہر عیسائی یہودی ہندو سکھ بدھ اور زرتشتی تمہارا مخاطب ہو۔اور تم اللہ تعالیٰ کے اُن بندوں کو جو ہدایت کا راستہ بھول چکے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لے آئو۔اگر ایک ماں کے تین بچے گم ہو جائیں اور اُن میں سے دو کو تم واپس لے آئو اور تیسرے کو دھتکار دو تو اُن دو کے لانے سے وہ تم پر پوری طرح خوش نہیں ہوگی بلکہ وہ کہے گی کہ وہ تیسرا بچہ بھی مجھے اسی طرح پیارا ہے جس طرح یہ دونوں پیارے ہیں۔اس لئے جائو اور اُسے بھی ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔اسی طرح اگر تم دنیا کی دو ارب آبادی میں سے ایک ارب ننانوے کروڑ ، ننانوے لاکھ ،ننانوے ہزار نو سو ننانوے کو بھی واپس لے آتے ہو لیکن ایک آدمی کو چھوڑ دیتے ہو اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ تم کو اس کے چھوڑ نے پر یہ کہے گا کہ وہ بھی تو میرا بندہ تھا تم نے اُسے واپس لانے کی کیوں کوشش نہیں کی۔دوسری بات جس کی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمہارے دلوں اور دماغوں پر حاوی ہونا چاہیے کیونکہ قرآن کریم کے لئے فتح مقدر ہے۔جب تم اپنے وجود کو قرآن کریم کے ساتھ وابستہ کردو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی فتح عطا فر مائےگا۔تیسری بات اس میں یہ بتائی گئی ہے کہ جب تک تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل نہیں کر تے اور آپ کے نقشِ قدم پر نہیں چلتے اور جب تک تم اپنے اپنے دائرہ میں چھوٹے محمد ؐ بننے کی کوشش نہیں کرتے اُس وقت تک تم دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پھر فرماتا ہے الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ