تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 280

کارساز سمجھتاہے۔مگرجہاں ایک مومن کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہمیشہ دعائیں مانگتا رہے وہاں اس کے لئے یہ بھی ضروری ہوتاہے کہ وہ لالچ اورحرص کے جذبات سے کلیۃً بالا رہے اور کبھی خدا تعالیٰ کا شکوہ اپنی زبان پر نہ لائے۔اللہ تعالیٰ مومنوںکو اس بارہ میںنصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى( طٰہٰ : ۱۳۲) یعنی تم اپنی گردن لمبی کرکرکے یہ نہ دیکھا کرو کہ فلاں کو جوکچھ ملا ہے وہ مجھے کیوں نہیں ملا۔تمہیں کیا پتہ کہ اس چیز کاملنا تمہارے لئے فائدہ بخش تھا یانہیں۔اگر وہی کچھ تمہیں مل جاتا توممکن تھا تم تکلیف میں پڑ جاتے۔بیشک اگر کسی کے پاس د س ارب روپیہ بھی موجود ہو تووہ یہ دعاکرسکتا ہے کہ خدایا میں تیرے مزید فضلوں کا محتاج ہو ںلیکن اگر کسی کے پاس صرف دس روپے ہوں اور وہ ہروقت کُڑھتارہے اور ایک بے چینی اوراضطراب اس میں پایاجائے اوروہ کہے کہ فلاں کے پاس تو سوروپیہ ہے اور میرے پاس صرف دس روپے ہیں اوروہ خدا تعالیٰ کا شکوہ کرتا پھرے تویہ درست نہیں ہوگا۔پس بے شک اللہ تعالیٰ کے فضلوں اوراس کے انعاموں کو طلب کرو۔مگر ہمیشہ یہ عادت ڈالو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں جس مقام پر رکھا ہے اس مقام کے متعلق تمہارے دل میں کبھی خفگی پیدانہ ہو۔اور تم یہ نہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں گرایاہواہے اور تمہاراغیرتم سے اچھا ہے۔مثنوی رومی والوں نے ایک حکایت لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں ایک سپیراتھا جس نے ایک ایساسانپ پکڑا جو کسی اورسپیرے کے پاس نہیں تھا۔وہ سانپ اس نے نہایت سنبھال کر رکھا ہواتھا اس کے دوست آشنا آتے تووہ بڑے شوق سے وہ سانپ ان کو دکھا تا۔ایک دن جووہ صبح کو اٹھا تواس نے دیکھا کہ گھڑے میں سے سانپ نکل گیا ہے۔اتفاقاًاس کا ڈھکنا کھلا رہ گیااورسانپ نکل گیا۔اب اسے بڑی گھبراہٹ ہوئی اوراس نے خدا تعالیٰ کے حضور رونا اورچلانا شروع کردیا۔کہ خدایامیراسانپ مجھے مل جائے۔خدایا میراسانپ مجھے مل جائے۔گھنٹہ دوگھنٹہ دعاکرنے کے بعد وہ گھڑ ے کامنہ کھول کر دیکھتاکہ سانپ اس میں واپس آگیاہے یا نہیں۔مگر سانپ کہاں آتا۔وہ پھر دعامیں مشغول ہوجاتا اسی طرح وہ ساراد ن اورساری رات دعاکرتارہا۔جب صبح ہوئی تو ایک شخص آیا اوراس نے اسے آکر کہا کہ فلاں گھر میں چلئے وہاں ایک نئی قسم کے سانپ نے ایک شخص کوکاٹا ہے اوروہ مرگیا ہے۔سب سپیرے وہاں جمع ہیں سانپ پکڑاہواہے اورآپ کو بھی بلایا گیاہے تاکہ آپ اس سانپ کو دیکھ لیں۔جب وہ گیا اوراس نے سانپ دیکھا تووہ وہی تھا جواس کے گھر سے بھاگاتھا اورجس کے لئے چوبیس گھنٹے سے دعائیںکررہاتھا۔معلوم ہوتا ہے اس کے اندر کوئی نیکی تھی جو اللہ تعالیٰ کو پسند آگئی۔سانپ اس کے گھر سے بھا گا اور دوسرے گھر میں چلا گیا۔دوسرا شخص یہ