تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 281
سمجھ کر کہ یہ نئی قسم کاسانپ ہے اسے پکڑنے لگا توسانپ نے اسے ڈسا اور وہ مر گیا جب اس نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کے حضورسجدہ میں گر گیااورکہنے لگا خدایا میں توسمجھتاتھاکہ تونے میری دعانہیں سنی۔مگر درحقیقت تونے میری دعاسن لی تھی اوراس کانہ ملنا ہی میرے لئے مفید اوربابر کت تھا (مثنوی مولانا روم دفتر دوم صفحہ ۱ ۳،مارگیر)۔تو ہزاروں دفعہ انسان ایسی خواہشیں کرتاہے جو مضر ہوتی ہیں۔اولادیں ہی بعض دفعہ ایسی گندی نکلتی ہیں کہ وہ انسان کے لئے بدنامی کاباعث بن جاتی ہیں اوران کو دیکھ دیکھ کر روتا ہے۔آخر اتنا توسوچوکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کی جب شادی ہوئی ہوگی تو وہ بھی دعاکرتے ہوں گے کہ اللہ میاں ہمیں اپنے فضل سے بیٹا دے۔مگر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ بھی ایک غریب گھرانے کی تھیں اورآپ ؐکے والد بھی کوئی مالدارآدمی نہیں تھے۔ان کی شادی بہت معمولی سرمایہ سے ہوئی ہوگی۔اورصرف چند آدمی ہوں گے جو اس شادی میں شریک ہوئے ہوں گے لیکن اس کے مقابلہ میں ابو جہل کے باپ کی جب شادی ہوئی ہوگی توکس دھوم دھڑکے سے ہوئی ہوگی اورکس طرح سات سات آٹھ آٹھ دن تک اونٹ ذبح کرکرکے مکہ والوں کی ضیافتیں کی گئی ہوں گی۔لیکن اس دھوم دھڑکے کی شادی سے ابو جہل پیدا ہوااوراس چپ چپاتے کی شادی سے محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیداہوئے۔بظاہر ابوجہل کے باپ کی شادی پردنیا کہتی ہو گی کہ کیا برکت والا گھر ہے۔او رمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ کی شادی پر دنیا کو رحم آتا ہوگا اورلوگ کہتے ہوں گے کہ کیسا غریب گھرانہ ہے۔مگر اس وقت کسی کے واہمہ اورگمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ جسے’’ یہ برکت والا گھر ‘‘سمجھا جاتاہے وہ عرب کو تباہ کرکے رکھ د ے گا اورجس کو قابل رحم سمجھاجاتاہے ان کی شادی کے نتیجہ میں وہ وجود پیدا ہونے والا ہے جو نہ صرف عرب کو تباہی سے بچانے والاہو گا بلکہ وہ ساری دنیا کے لئے رحمت اوربرکت کا موجب ہوگا۔غرض کوئی انسان نہیں جانتا کہ وہ جو کچھ اپنے لئے مانگ رہاہے وہ اس کے لئے مفید بھی ہوگا یانہیں۔اس بات کاعلم صرف خدا تعالیٰ کو ہی ہوتا ہے اورجب انسان اس قدر محدود علم رکھنے والا ہے تووہ خدا تعالیٰ کے کسی سلوک کو یااس کی کسی عطاکردہ نعمت کو براکیوں سمجھے۔بیشک وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ بھی کہے الٰہی تیری طرف سے جوبھی خیر نازل ہو اس کا میں محتاج ہوں۔(القصص:۲۵)اگروہ دس کروڑ دے توتم کہو الٰہی میں دس ارب کا محتاج ہوں لیکن یہ نہ کہو کہ مجھ پر کتنی سختی ہوئی ہے کتنا ظلم ہواہے کتنی تکلیف میں میں مبتلاہو ں۔کیونکہ اس طرح خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری ہوتی ہے جوجائز نہیں۔تیسری صفت جس کی طرف ان مقطّعات میں توجہ دلائی گئی ہے وہ مجید کی صفت ہے۔مجید کے معنے یہ ہیں کہ