تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 279
میں نظر نہیں آتا۔میں نے ان کو ایک لطیفہ سنایاکہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ ایک صوفی طرز کے پیر نے جب سنا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کرلی ہے تواس نے اپنے ایک مریدکے ذریعہ مجھے کہلا بھیجا کہ مرزا صاحب کو مان کر اوران کی بیعت کرکے کیا حاصل ہوسکتا ہے۔اگر آپ میری بیعت کرلیں تو مجھے اتنا کمال حاصل ہے کہ میں آپ کا پہلا سجدہ ہی عرش پر کروادوں۔جب اس کے مرید نے مجھے صوفی کا یہ پیغام سنایا تومیں نے کہلا بھیجا کہ مجھے عرش پر سجدہ کرنے سے جوتیاں نہ پڑیں گی۔خدا تعالیٰ کہے گا میں نے زمین پر سجدہ کرنے کاحکم دے رکھا ہے اور تو آسمان پر سجدہ کرنے آگیاہے۔اس پر مولوی امام الدین صاحب مرحوم کہنے لگے یہ تو ٹھیک ہے مگرا س سے میری تسلی نہیں ہوئی۔غرض و ہ جب بھی مجھ سے ملتے اسی قسم کی بات کرتے اورمیں کسی نہ کسی رنگ میں ان کو جواب دیاکرتا مگر ان کے دل کی خلش دور نہ ہوتی۔آخر ایک دن میں نے ان سے کہا مولوی صاحب کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ نظر آجائے اوراسے اتنے کمالات حاصل ہوجائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے عرش پر سجدہ کرنے لگ جائے۔توایسے آدمی کی کیا حالت ہوتی ہے ایسے آدمی کاکفیل خود خدا تعالیٰ ہو جاتاہے اوراسے بندوں کی کوئی احتیاج نہیں رہتی بلکہ وہ جوکچھ مانگتا ہے خدا تعالیٰ ہی سے مانگتا ہے اورچاہے بندے اس کی مدد کریں لیکن اس کی حالت یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُوْحِیْ اِلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَاءِ کی سی ہوتی ہے۔اور جو لوگ اس کی مدد کرتے ہیں وہ خود محتاج ہوتے ہیں اسی بات کے کہ اس کی مددکریں۔وہ اس بات کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی اس کی مدد کرے۔ایسے شخص کو کچھ دینے والا سمجھ رہاہوتاہے کہ میں اس کی مدد کررہاہوں۔مگرلینے والا سمجھ رہاہوتا ہے کہ میں اس سے لے کر اس پر احسان کررہاہوں۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دینے والا زید ہو یا بکر۔اسے خدا تعالیٰ نے ہی میری ضرورتوںکو پوراکرنے کے لئے بھیجا ہے۔میں کسی زید یا بکر کا ہرگز محتا ج نہیں۔ایسے شخص کو چاہے کسی ذریعہ سے کوئی چیز پہنچے وہ سمجھتا یہی ہے کہ یہ خدا نے مجھے بھیجی ہے۔اب آپ بتائیں کہ کیا آپ کے پیر صاحب کو بھی یہ مقام حاصل تھا۔کہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام ضروریات کو پوراکرتاہو؟جب میں نے ان سے یہ سوال کیا تو وہ خاموش ہوگئے اورکہنے لگے کہ میں اب سمجھ گیاہوں۔ہمارے پیرصاحب جو کہتے تھے کہ ہم یو ں نظارے دکھاتے ہیں اورعرش پر سجد ہ کرادیتے ہیں۔جب کبھی فصل وغیرہ کا موقعہ آتاتوزمینداروں کے پاس جاتے ان سے کہتے کہ ہمارابھی خیال رکھنا۔اب میں اس بات کو اچھی طرح سمجھ گیا ہوں کہ اگر فی الواقعہ ان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق ہوتا توکسی بندے سے کیوں کہتے کہ میرابھی خیال رکھنا۔غرض خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لینے والے کے سامنے صرف خدا تعالیٰ کی ہی ذات رہتی ہے اوروہ اسی سے اپنی ہرضرورت طلب کرتااوراسی کو حقیقی