تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 275

شخص سچے دل سے اپنے رب کو پکا رے تواللہ تعالیٰ آسمان سے اپنا ہاتھ بڑھا کر ان کی گر دنیں مروڑ سکتا ہے۔بیشک وہ چھا ن چھان کر پانی پئیں۔بیشک و ہ رات اوردن پرہیز کرتے رہیں اگر خدا تعالیٰ ان کی ہلاکت کافیصلہ فرمادے تووہ ہیضہ یا طاعون یا انفلوئنزاکے کیڑوں کو بھی حکم دے سکتا ہے کہ تم اتنی تعداد میں فلاں شخص کے اندر داخل ہوجائو۔کہ دنیا کی کو ئی دوائی اس پر اثر نہ کرسکے اوروہ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوجائے اورمیرامومن بندہ خوش ہوجائے کہ میں نے اس کی مدد کی ہے۔ایک بزرگ کاواقعہ لکھا ہے کہ ان کے محلہ میں شاہی دربار کے بعض آدمی رات کو گانے بجانے کا شغل رکھتے تھے۔انہوں نے کئی دفعہ سمجھا یا کہ لوگوں کی نیندیں اورنمازیں خراب ہوتی ہیں تم اس شغل کو ترک کردو۔مگر وہ نہ مانے۔جب انہوں نے بار بار کہا تو اس خیال کے ماتحت کہ کہیں یہ محلہ والوں سے مل کر ہمیں روکنے کاتہیہ نہ کرلیں۔انہوں نے شاہی پہرہ داروں کا انتظام کرلیا۔جب اس بزرگ کو اطلاع ملی تو انہوں نے کہا اچھا اِنہوں نے اپنی حفاظت کے لئے فوج بلالی ہے توہم بھی رات کے تیروں سےان کامقابلہ کریں گے۔معلوم ہوتاہے ان لوگوںکے دلوں میں ابھی کچھ نیکی باقی تھی۔جونہی ان لوگوں کے کان میں یہ آواز پڑی کہ ہم رات کے تیروں سے مقابلہ کریں گے۔وہ دوڑتے ہوئے اس بزرگ کے پاس آئے اورکہنے لگے۔ان تیروں کے مقابلہ کی ہم میں طاقت نہیں۔ہم اپنے شغل سے باز آئے۔پس دعاایک ایساہتھیا رہے کہ اگر کوئی شخص کامل یقین اورپختہ ایمان کے ساتھ اس سے کام لے توبظاہر ناممکن نظر آنے والی باتیں بھی اس کے لئے ممکن ہوجاتی ہیں۔مجھے یادہے ایک دفعہ میں دریا پر گیا۔بھائی عبدالرحیم صاحب جو بچپن میں میرے استاد رہے ہیں اور کچھ اَور دوست میرے ساتھ کشتی میں سوارتھے۔جب ہم کشتی میں بیٹھے ہو ئے دریا کی سیر کررہے تھے تومیرے لڑکے ناصر احمد نے اپنے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان!اگر اس وقت ہمارے پاس مچھلی بھی ہوتی توبڑامزہ آتا۔میں نے کہا۔لوگ کہتے ہیں کہ پانیوں میں خواجہ خضر کی حکومت ہے۔اگر خواجہ خضر کو ئی مچھلی ہماری طرف پھینک دیں توتمہاری یہ خواہش پوری ہوسکتی ہے۔جب میں نے یہ فقرہ کہا تو بھائی عبدالرحیم صاحب جھنجھلا کرکہنے لگے کہ آپ کیسی باتیں کرتے ہیں اس بچے کی عقل ماری جا ئے گی میں نے کہا۔ہمارے خدامیں توسب طاقتیں ہیں وہ چاہے تو ابھی مچھلی بھجوادے۔میں نے یہ فقرہ ابھی ختم ہی کیا تھا کہ یکدم پانی کی ایک لہر اٹھی اورایک بڑی سی مچھلی کود کر ہماری کشتی میں آگری۔میں نے کہا دیکھ لیجئے خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت نمائی کردی۔اورہمارے دل میں جو خواہش پیداہوئی تھی و ہ اس نے پوری کردی۔خواجہ خضر بے شک وفات پاچکے ہوں مگرہماراخداجو ہماراخالق اورمالک ہے اور سَمِیْعُ الدُّعَا ہے و ہ توزندہ ہے اوروہ ہمارے جذبات کو جانتا ہے اس نے اس خواہش کودیکھا اورمیر ی بات کو پوراکردیا۔