تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 274
دعاکرتاچلا جائے۔بلکہ اگر اس کی زبان پر فالج گراہواہے اوروہ دعا کے لئے اپنی زبان بھی نہیں ہلا سکتا۔توو ہ دماغ میں ہی دعائیہ فقرات کو دوہراتا رہے اوراگر اس کادماغ بھی کام کرنے سے رہ جائے توپھر اس کا زمانہ عمل ختم ہو جاتا ہے۔لیکن جب تک ایک انسان دنیا میں رہتا ہے اورانسانیت کی حدود سے وہ ادھر ادھر نہیں ہوتا اس وقت تک ایک معذور سے معذور انسان بھی اس میں حصہ لے سکتاہے یہاں تک کہ وہ گونگا جس کی زبا ن نہیں وہ بہرہ جس کے کان نہیں۔وہ مفلوج جس کے جسم کی حِس ماری گئی ہو۔اوروہ گوشت کا لو تھڑہ بن کر چارپائی پر پڑاہواہووہ بھی اسی جو ش و خروش سے اپنے رب سے دعاکرسکتاہے جس طرح ایک تندرست اورطاقتور انسان۔غرض دعاایک ایسی چیز ہے جس نے دنیا کے تمام چھوٹوں اوربڑوں اورامیروں اورغریبوں کو ایک سطح پر لاکر کھڑا کردیاہے۔اوردعاہی وہ ہتھیا رہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اَمَنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَادَعَاہُ(النمل :۶۳) وہ کون سی ہستی ہے جو بندہ کی دعائے مضطر سن کر بیتا ب ہو جاتی اور دوڑ کر اس کے پاس آجاتی ہے۔فرمایا۔وہ میں ہوں۔پس یہ عمل سب اعمال سے زیادہ طاقتو ر ہے بیشک نماز بھی ایک ضروری چیز ہے۔روزہ بھی ایک ضروری چیز ہے۔زکوٰۃ بھی ایک ضروری چیز ہے۔حج بھی ایک ضروری چیز ہے۔جہاد بھی ایک ضروری چیز ہے۔مگر دعاوہ عمل ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ اگر کوئی مجھے سچے دل سے پکا رے تومیں ضرور اس کے پاس پہنچ جاتاہوں۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔وَاِذَاسَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ(البقرۃ: ۱۸۷)۔یعنی جب کبھی میرے بندے انسانی خدائوں سے ناامید ہوکر پوچھیں کہ ہماراآسمانی خداکہاں ہے۔ہم پر تو فرعون نے اورنمرود نے اورشدّاد نے اتنا تصرف کرلیا ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کہاں جائیں اورکس طرح ان کے مصائب اور آفات سے رہائی حاصل کریں توتُوانہیں کہہ دے کہ تمہیں میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔اِنِّیْ قَرِیْبٌ میں خود تمہارے قریب آیاہواہوں۔اگرتمہاراباپ تمہارے کام آسکتا۔یاتمہاراچچا تمہاری مدد کرسکتا۔یاتمہارااَورکوئی رشتہ دار تمہارے قریب ہوتا توتمہیں دوڑ کر اس کے پاس جانا پڑتا۔مگر اب تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔میں خود تمہارے قریب آیا ہواہوں۔پس تمہاری فریاد سنی جانے میں کوئی وقت نہیں لگ سکتا۔دنیا میں توتمہیں مدد حاصل کرنے کے لئے اپنے دوستوں اوررشتہ داروں کے پاس جانا پڑتا ہے۔مگر میں توآپ دوڑ کر تمہارے قریب آچکا ہوں پھر تمہیں کیا مشکل پیش آسکتی ہے۔یہ پیغام جو اسلام نے دنیا کے ہرفرد کو دیاہے اتنا اہم اوراس قدر عظیم الشان انقلاب پیداکرنے والا ہے کہ اس کی موجودگی میں دنیا کا کوئی دکھ انسان کو پریشان نہیں کرسکتا۔دشمن خواہ آسمان سے بھی اونچے چلے جائیں اگر کو ئی