تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 276

اسی طرح ایک دفعہ بڑی تپش کے بعد بارش آئی جس کمرہ میں مَیں رہتاتھا۔اس کی کھڑکی میں نے کھولی اوربارش کا نظارہ دیکھنے لگا۔چونکہ بڑی دیر کے بعد بارش آئی تھی۔اس لئے مجھے اس بارش کا بڑا مزہ آیا۔مگر اس روز مجھے پیچش کی شکایت تھی۔میںا بھی بارش کانظارہ دیکھ ہی رہاتھا کہ مجھے اجابت محسوس ہوئی۔جب میں جانے لگا تو بےساختہ میرے منہ سے نکلا کہ خدایا!توایسا فضل فرماکہ خواہ درمیانی عرصہ میں یہ بارش بند ہوجائے جب میں واپس آئوں توپھر بار ش شروع ہوجائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جو نہی میں گیا۔بارش بند ہوگئی۔اورجب میں کمر ہ میں واپس آیا اورمیں نے دوبارہ کھڑکی کھولی تو یکدم بارش شروع ہوگئی جو آدھ گھنٹہ یاپون گھنٹہ تک جاری رہی۔اب دیکھو بار ش میرے اختیار میں نہیں تھی مگر خداتعالی نے ایسا فضل کیاکہ ادھر میں کمرہ میں پہنچا اوراُدھر بارش شروع ہوگئی۔اسی طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک جماعت نے بڑے اصرارسے مجھے اپنے پاس بلایا۔جب میں واپس آرہاتھا تو چلتے چلتے کسی آئندہ خرچ کے خیال سے میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالاتو ایک روپیہ کم تھا۔اس وقت میں نے اللہ تعالیٰ سے دعاکی۔کہ اللہ میاں مجھے ایک روپیہ بھیجیں۔ابھی میرے دل سے یہ دعانکل ہی رہی تھی کہ قریب کے گائوں سے ایک آدمی ہماری طرف آتا دکھائی دیا۔جماعت کے دوست جلدی سے حفاظت کے لئے میرے اردگرد جمع ہوگئے۔میں نے کہا کیا ہوا۔کہنے لگے یہ ہمارے سلسلہ کا شدید دشمن ہے اوراحمدیوں پر اکثر حملے کرتا رہتاہے۔ہم آپ کے گرد اس لئے کھڑے ہوگئے ہیں کہ وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔جب ہم اس گائوں کے قریب پہنچے تو وہ دوڑتا ہواآیا اور میرے ساتھیوں کو دھکا دے کرآگے بڑھا اورپھر اس نے ادب کے ساتھ میری طرف ہاتھ بڑھایااورایک روپیہ میرے ہاتھ پر رکھ کرچلا گیا۔میں نے کہا۔آپ لو گ توکہتے تھے یہ مارنے آیاہے اوراس نے تو ایک روپیہ نذرانہ کے طور پر دے دیا ہے۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ ابھی میرے دل میں خیال آیا تھا کہ خدامجھے ایک روپیہ بھیجے۔سوخدا نے اس شخص کو بھیج دیااور اس نے مجھے ایک روپیہ نذرانہ کے طور پر دے دیا۔غرض انسان کو اگر خدا تعالیٰ پر کامل یقین ہو تو وہ اس کے لئے بڑے بڑے نشانا ت ظاہر کردیتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ سابقہ امتوں میں سے ایک امت کے تین آدمی ایک دفعہ ایک طوفان میں پھنس گئے اورو ہ اس طوفان سے پناہ لینے کے لئے ایک پہاڑ کی غار میں چھپ گئے۔اتفاقاً زور کی جو آندھی آئی توپتھر کی ایک بڑی بھاری سِل لڑھک کر اس غار کے منہ کے آگے آگئی اورنکلنے کاراستہ بند ہوگیا۔وہ ایک چھوٹی مصیبت سے بچنے کے لئے پہاڑ کی غار میں گئے تھے مگر اس سے بڑی مصیبت میں پھنس گئے۔اس جنگل میں جبکہ وہ ایک پہاڑ کی غار میں محبوس تھے کو ئی آدمی ایسانہ تھا جو انہیں اس مصیبت سے نجا ت دلاتا۔وہ سخت گھبرائے اورجب انہیں اپنی نجات کی