تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 263
آٹاپیس رہی ہیں۔مگرانہیں کبھی احساس نہیں ہوتا کہ ان تمام مشینوں سے ایک بڑی مشین اللہ تعالیٰ نے خود انسانی جسم کے اندر پیداکررکھی ہے۔جو پیس بھی رہی ہے۔جوصاف بھی کررہی ہے۔جوطاقت بھی پہنچا رہی ہے۔جس طرح بعض مشینیں ایسی ہوتی ہیں جومیدہ الگ نکالتی جاتی ہیں اورسبوس الگ نکالتی جاتی ہیں اسی طرح انسانی جسم میں اللہ تعالیٰ نے جو مشین بنارکھی ہے ان میں سے کوئی خون صالح پیداکرتی ہے۔کو ئی عقل کو طاقت دیتی ہے۔کوئی سمع کو طاقت دیتی ہے۔کوئی بصر کو طاقت دیتی ہے۔کوئی قوت گویائی کو طاقت دیتی ہے۔غرض ایک نظام ہے جو انسان کے اندر د ن رات کام کررہاہے۔اوربیسیوں چیزیں ہیں جو اس سے پیداہوتی ہیں۔ان میں سے کو ئی انسانی حِس کو طاقت دیتی ہے۔کوئی قوت شامہ کو طاقت دیتی ہے۔کوئی اعصاب کو طاقت دیتی ہے۔اسی طرح انسانی دماغ میں مختلف قسم کے ڈیپارٹمنٹ بنے ہوئے ہیں۔اتنے بڑے ڈیپارٹمنٹ دنیوی گورنمنٹوں میں بھی نہیں ہوتے جتنے انسانی دماغ میں اللہ تعالیٰ نے بنائے ہوئے ہیں۔مگرانسان کو احساس بھی نہیں ہوتاکہ مجھ پراللہ تعالیٰ کے کیاکیا احسانات ہورہے ہیں۔وہ اندھے کی طرح گذ ر جاتاہے اوراس کادل اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہمیشہ خالی رہتاہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ آپ کھاناکھاتے تو بسم اللہ پڑھتے۔کھاناکھاچکتے تواللہ تعالیٰ کی حمد کرتے۔اسی طرح کپڑے پہنتے تو خدا تعالیٰ کی حمد کرتے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے ہی کیاتھے بہت معمولی اورسادہ کپڑے ہواکرتے تھے۔آج کل ململیں اورلٹھے اور کئی قسم کے آرام دہ کپڑے لوگ پہنتے ہیں۔اوران کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے شکر کاکوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔وہ مومن کہلاتے ہیں وہ خدااوراس کے رسول ؐ کوماننے والے کہلاتے ہیں مگرانہیں کبھی خیال نہیں آیا کہ خدا کاوہ رسول جس کے متعلق یہ کہاگیاتھا کہ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ (فوائد المجموعة مصنفہ علّامہ شوکانی صفحہ ۱۱۶ و موضوعات کبیرصفحہ ۷۰ )اسے اپنے پہننے کے لئے جو کپڑے نصیب ہوئے ان سے ہزاروں گنازیادہ اعلیٰ اورزیادہ آرام دہ کپڑے آج ہرادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کو نصیب ہیں۔مگر حالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اوراس کے شکر کے جواعلیٰ ترین جذبات معمولی کپڑے پہن کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا ہوتے تھے وہ آج ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہوتے۔یہ تمنااورخواہش پیدا نہیں ہوتی کہ کاش یہ نعمتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتیں کیونکہ ان نعمتوں کے اصل مستحق آپؐ ہی تھے۔حضر ت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اورکہنے لگا۔میں سیّد ہوں۔میری بیٹی کی شادی ہے۔آپ اس موقعہ پر میری کچھ مدد کریں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ یو ں تو بڑے مخیّر تھے مگرطبیعت کا رجحا ن ہے جو بعض دفعہ کسی خاص پہلو کی طرف ہوجاتا ہے۔آپ نے فرمایا۔میں تمہاری بیٹی کی شادی کے لئے وہ