تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 262

رہتے۔آپ کی عادت بڑالقمہ لینے کی نہیں تھی بلکہ آپ ہمیشہ چھوٹا لقمہ لیتے اورجہاں ا س پہلےلقمہ کو دیر تک چباتے رہتے وہاں روٹی کاایک اَور ٹکڑا لے کر اپنے ہاتھ میں ملتے جاتے اورساتھ ہی سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جاتے۔کچھ دیر کے بعد اس میں سے کوئی ٹکڑہ سالن لگا کر منہ میں ڈال لیتے اورروٹی کے باقی ٹکڑے دسترخوان پر پڑے رہتے دیکھنے والے بعض دفعہ کہا کرتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام روٹی کے ٹکڑوں میں سے حلال اورحرام ذرّے الگ الگ کرتے ہیں اور چونکہ روٹی کے بہت سے ٹکڑے آپ کے دسترخوان پر جمع ہوجاتے تھے اس لئے جب آپ کھانے سے فارغ ہوجاتے تولو گ تبرّک کے طور پر ان ٹکڑوں کو آپس میں تقسیم کرلیاکرتے تھے۔تواللہ تعالیٰ کی رحمتیں اوربرکتیں اتنی وسیع ہیںکہ اگر انسان غور کرے اورسوچے تواسے معلوم ہو کہ ہرقدم جو انسان اٹھا تاہے۔ہرلمحہ جو انسانی زندگی پر گذرتاہے۔ہرساعت جو اس پر آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں اوراس کی بے انتہاء برکات کو اپنے ساتھ لے کر آتی ہے اورپھر اگر انسان اورزیادہ غور کرے تواسے معلوم ہوکہ ساراجہان اس کی خدمت میں لگا ہواہے۔اوردن رات اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے وہ حصہ پارہا ہے۔ہرہاتھ جو وہ لمباکرتاہے۔ہرآنکھ جو وہ جھپکتا ہے۔ہرآوازجو وہ سنتاہے۔ہر تھوک جو وہ نگلتاہے اللہ تعالیٰ کے فضل اوراس کے احسان کا ہی نتیجہ ہے۔ورنہ خودانسان میں یہ کہاں طاقت تھی کہ وہ ایساکرسکتا۔اگرڈاکٹر ہائیڈروکلورک ایسڈ پلا پلا کرانسان کی قوت ہضم کو درست کرتے تو وہ چند دنوں کے اند ر اند رمرجاتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کے اند ر ایک ایسی مشین لگادی ہے کہ جونہی کو ئی غذااستعمال میں آتی ہے و ہ مختلف قسم کی تبدیلیوں کے بعد اسے انسانی خو ن میں شامل کردیتی ہے۔اورپھر خو ن اس غذا کو لے کر فوراً دل میں پہنچتا ہے جہاں اس کی صفائی کے لئے اسے پھیپھڑوں میں سے گذاراجاتاہے۔پھر صاف شدہ خون د ل کے بائیں حصہ میں آ نے کے بعد ایک بڑی رگ کے ذریعہ دل سے باہر نکلتاہے جو آگے چل کر دوحصوں میں منقسم ہوجاتی ہے۔ایک حصہ سرکی طر ف خو ن لے جاتاہے اوردوسرا حصہ دل کے مقام سے نچلے حصہ کی طرف خو ن لے جاتاہے۔اوراس طرح ہرعضو اپنی اپنی ضرورت کے مطابق غذا حاصل کرلیتا ہے۔مثلاً دماغ کے وہ اعلیٰ حصے جو عقل اورشعور کے مرکزہیںوہ اس سے اپنی غذالے لیتے ہیں اور جسم کے مختلف اعضاء کو حرکت میں لانے والے مراکز اپنی غذالے لیتے ہیں۔اسی طرح آنکھ،کان ،ناک ،زبان اور دوسرے اعضاء اپنی غذالے لیتے ہیں۔غرض ایک عظیم الشان نظام ہے جو زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اند رجاری کیاہواہے۔لوگ کارخانے دیکھتے ہیں توتعجب کرتے ہیں۔چکیّوںکو دیکھتے ہیں توحیران ہوجاتے ہیں۔کہ یہ کس طرح