تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 255

نیکی وہی ہے جس کادنیا کے زیادہ لوگوںکو فائدہ پہنچے۔اس کے مقابلہ میںاگر اقلیت رکھنے والی قومیں اکثریت پر حملہ کریں اوران کے مال و اسباب لوٹناچاہیں توان کا یہ فعل بدی کہلائے گا۔کیونکہ اس طرح تھوڑوں کو فائدہ پہنچتا ہے اوربہتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔پھر بعضوں نے کہا ہے کہ جس چیز کازیادہ سے زیادہ اورلمبے عرصہ تک فائد ہ پہنچے وہ نیکی ہے۔مگراس تعریف کے ماننے سے بھی یہ لازم آتا ہے کہ اگر کوئی قوم سوسال تک لوٹ مار کرتی ہے تووہ کم نیکی کرتی ہے اوراگر وہ دوسوسال تک لوٹ مارکرتی تو یہ زیادہ نیکی ہوتی۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں نیکی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو زیادہ نفع پہنچے اوربدی و ہ ہے جس سے اپنی ذات کو نقصان پہنچے۔مگر اس پر بھی یہ اعتراض پڑتا ہے کہ اگر جھوٹ بولنے سے کسی کی ذات کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہو تواس تعریف کے ماتحت جھوٹ بولنا بھی اُس کے لئے نیکی ہوگا۔حالانکہ اسے کوئی بھی درست نہیں سمجھتا۔پھر بعض لوگوں نے کہا ہے کہ نیکی اوربدی کی فطرت پر بنیاد رکھنی چاہیے۔یعنی جس چیز کو فطرت نیک کہے وہ نیکی ہے اورجس چیز کو فطرت بد کہے وہ بدی ہے۔یہ تعریف ایک حد تک تو درست ہے۔مگرکلّی طور پر نہیں۔میں نے بار ہا ایک مثال بیان کی ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایاکرتےتھے کہ ایک چور کو میں نے سمجھانا شروع کیا کہ چوری بہت بُرا فعل ہے۔تمہیں محنت کرکے حلا ل کی کمائی کھانی چاہیے۔اُس نے کہا۔مولوی صاحب ہم چوری کے لئے بڑی محنت کرتے ہیں اورہمیں فلاں فلاں دشواریوں اوردِقتوں کاسامنا ہوتا ہے۔اس لئے یہ فعل ہمارے لئے بالکل جائز ہے۔آخر جب چور کو کہاگیا کہ اگر تم کچھ چُرایا ہواسونا سنار کے پاس لے جائو اوراس کے پاس رکھ کر۔دوچار دنوں کے بعد اس سے واپس مانگو اوروہ دینے سے انکار کردے تو پھر کیا ہو ؟ اس پر وہ چو ر کہنے لگا کہ کیاایسا بھی کوئی خبیث ہوسکتا ہے جودوسرے کامال کھاجائے۔پس بے شک انسانی فطرت بعض باتوں کے متعلق بولتی توہے مگر محدود حد تک۔کیونکہ انسانی فطرت بسا اوقات بُرے ماحول کے نتیجے میں مسخ بھی ہوجاتی ہے۔اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ پھر نیکی کس چیز کانام ہے اوربدی کس چیز کانام ہے۔کیانیکی وہ ہوگی جس کومذہب نیکی قراردیتا ہے اوربدی وہ ہوگی جس کو مذہب بدی قرار دیتا ہے۔لیکن اگر یہ درست ہوتوسوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سے مذہب کی نیکی نیکی کہلائے گی اورکون سے مذہب کی بدی بدی کہلائے گی۔اوریہ سوال ایساہے کہ اس کاحل کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ دنیا میں کئی مذاہب پائے جاتے ہیں۔اوران کی تجویز کردہ نیکیوں اوربدیوں میں آپس میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ایک مذہب ایک کام کو نیکی قرا دیتا ہے تودوسرامذہب اُسی کام کو بدی قرا ردیتا ہے۔