تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 254
اورمسلمان اس کے پینے سے انکار کرتا ہے توکیا ہم یورپ کے معیار کے مطابق مسلمان کے شراب پینے سے انکارکو بدتہذیبی قراردیں گے یااسلام کے معیار کے مطابق نیکی قرار دیں گے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمان سوسائٹی کی بات مانیں اورعیسائی سوسائٹی کی بات کو ردّ کردیں۔یاعیسائی سوسائٹی کی بات مانیں اورمسلمان سوسائٹی کی بات ردّکردیں۔پھر بعض لوگوں نےایک اورقدم اٹھایاہے۔وہ کہتے ہیں نیکی وہ ہے جسے دنیا کے اکثر لوگ اچھا کہیں اوربدی وہ ہے جسے دنیا کے اکثر لوگ براکہیں۔مگریہ تعریف بھی کوئی معین تعریف نہیں کہلاسکتی۔کیونکہ دنیا کی اکثریت کو اسی صورت میں نیکی اوربدی کی شناخت کاصحیح معیار قرا ردیا جاسکتا ہے جب خود اکثریت ہمیشہ ایک بات پر قائم رہے۔لیکن ہمیں توہرزمانہ اورہرملک بلکہ قوم کی اکثریت کے خیالات ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ایسی صورت میں دنیا کی اکثریت کو نیکی اوربدی کی شناخت کامعیار کس طرح قرار دیاجاسکتا ہے۔پھر اگر اس تعریف کو درست سمجھاجائے تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ اگر اکثریت کہتی ہوکہ خدا کوئی نہیں تو اُس وقت خدا تعالیٰ کاانکار کرنا نیکی ہوگا۔اوراگر اکثریت کہتی ہوکہ خداہے تو خدا کوماننا نیکی ہوگا۔لیکن دوسرے وقت وہی اکثریت ہستی باری تعالیٰ کی قائل ہوجائےتوپھر خدا تعالیٰ پر ایمان لانا نیکی قرار پائے گا اوراس کاانکار کرنا بدی قرار پائے گا۔گویا اکثریت کے عقائد بدلنے کے ساتھ نیکی اوربدی کی تعیین بھی مختلف ہوتی چلی جائے گی پس نیکی اوربدی کی یہ تعریف بھی کو ئی معین تعریف نہیں کہلاسکتی۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ نیکی و ہ عمل ہے جس سے سب سے زیادہ خوشی حاصل ہو۔اوربدی وہ عمل ہے جو اُنہی حالات میں اُتنی خوشی پیدانہ کرے۔مگریہ تعریف بھی صحیح نہیں کیونکہ اِس کے معنے یہ ہیں کہ اگرایک شخص کو ڈاکہ مارکر سب سے زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہو۔تواس کے لئے ڈاکہ مارناہی سب سے بڑی نیکی ہوگا حالانکہ اِسے کوئی بھی درست تسلیم نہیں کرتا۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ نیکی وہ ہوتی ہے جس کادنیاکے سب سے زیادہ لوگوںکو فائدہ پہنچے۔لیکن اس تعریف کو صحیح سمجھاجائے توماننا پڑے گا کہ اگر فرانس بلجیم پر حملہ کرکے اُسے لوٹ لے توجائز ہوگا کیونکہ فرانس کے باشندے بلجیم کے باشندوں سے بہت زیاد ہ ہیں بیشک بلجیم کے تھوڑے سے لوگوںکو نقصان پہنچے گا لیکن چونکہ فرانس کے بہت زیادہ لوگوں کوفائدہ پہنچتاہے اس لئے ان کا بلجیم پر حملہ کرکے وہاں کے مال و متاع کو لوٹ کر لے جانا نیکی ہو گا۔اسی طرح جو قوم بھی اکثریت میں ہو۔اس تعریف کے ماتحت اس کے لئے جائز ہوگا کہ و ہ اقلیت کو لوٹ لے اورکہے کہ یہ نیکی ہے۔اورجب کوئی سوال کرے کہ یہ نیکی کس طرح ہوئی تو وہ کہہ دے کہ دیکھ لوکتابوں میں اسی طرح لکھا ہے کہ