تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 256
اس لئے اس تعریف سے بھی ہمیں نیکی اوربدی کاحقیقی علم حاصل نہیں ہوسکتا۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی چیز بغیر کسی حکمت کے صرف شریعت کے روکنے کی وجہ سے گناہ ہوتی ہے توشریعت کا یہ فعل لغو قرا رپاتا ہے۔اوراگر بُرائی کی وجہ سے بُری ہوتی ہے تو پھر یہ دلیل نہ ہوئی کہ جس سے شریعت روکے وہ بری ہے بلکہ یہ ہوئی کہ جوبُری شے ہو اُس سے شریعت روکتی ہے اورپھر اس حکم یانہی کو اُس حکمت کی طرف منسوب کرنا پڑے گا۔صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا کہ جس سے شریعت روکے وہ برائی ہے۔اورجس کاحکم دے وہ نیکی ہے۔اسلام ان تمام نظریات کے خلاف دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کی موافقت اختیار کرنانیکی ہے اوراس کی صفات کے خلاف کا م کرنا بُرائی ہے۔چنانچہ وہ اس بارہ میں مومنوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً(البقرۃ:۱۳۹)یعنی اے مومنو !تم اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرو۔اوراللہ تعالیٰ سے بہتراَورکون ہے جس کارنگ اختیارکیا جاسکے یعنی جس طرح خدا ربُّ العالمین ہے۔و ہ الرَّحمٰن اور اَلرَّحِیْم ہے۔وہ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ہے اسی طرح تم بھی کوشش کرو کہ تم اُس کی ربوبیتِ عالمین کے مظہر بن جائو۔تم اس کی رحمانیت کے مظہر بن جائو۔اُس کی رحیمیّت کے مظہر بن جائو۔اس کی مَالِکِیَّتِ یَومِ الدِّیْن کے مظہر بن جائو۔اسی طرح کوشش کرو کہ تم بھی ایک قسم کے سَتَّار بن جائو۔ایک قسم کے غَفَّار بن جائو۔ایک قسم کے قَھَّار بن جائو۔ایک قسم کے حَمِیْد بن جائو۔ایک قسم کے مَجِیْد بن جائو۔ایک قسم کے شَکُوْر بن جائو۔ایک قسم کے وَدُوْد بن جائو۔تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے ایک رنگ کی مشارکت حاصل ہوجائے اور تم صفات الٰہیہ کے مظہر بن کر اخلاق کااعلیٰ مقام حاصل کرلو۔پس اسلام کے نزدیک حقیقی خو بی وہ ہے جوحسنِ ازلی کے نقشہ میں ہو اورگناہ یاعیب ہر اس فعل کانام ہے جوصفات الٰہیہ کے منافی ہو۔اور چونکہ انسان کو خدا تعالیٰ کی صفات کامظہر بننے کی طاقت دی گئی ہے۔یادوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو۔کہ خداتعالی اصل ہے اورانسان اس کی تصویر ہے۔اس لئے تصویر کا حسن اسی میں ہے کہ وہ اصل کے مطابق ہو۔اوراس کا عیب یہ ہے کہ وہ اصل کے خلاف ہو پس انسان جو عمل بھی ایساکرتا ہے جواسے خدا تعالیٰ کی صفات کے موافق بناتا ہے وہ نیکی ہے اورجو عمل اسے خداتعالی کی صفات سے دور لے جاتا ہے وہ بدی ہے۔گویانیکی کی حقیقی تعریف اسلام نے یہ پیش کی ہے کہ نیکی اس عمل یاخیال کانام ہےجوخداتعالی سے جو ایک کامل اوربے عیب ذات ہے مشابہت پیداکرتا ہو۔اوربدی اُس فعل یاخیال کا نام ہے جو اس کامل اوربے عیب ذات کی پسندیدگی یافعل کے خلاف ہو۔