تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 252

تمام حسن اس امر پر منحصر ہے کہ تم صفات الٰہیہ کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگین کرنے کی کوشش کرو۔اوراس امر کو اچھی طرح یاد رکھو کہ جتنا جتنا کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیداکرتاچلاجائے گا اُتنا ہی وہ اعلیٰ اخلاق کاحامل ہوگا اور اُسی نسبت سے اُسے اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوگا۔گویااسلام نیکی اوربدی کی تعریف ایک جدید زاویہء نگاہ سے پیش کرتا ہے اوراعلیٰ اخلاق کی بنیاد صفات الٰہیہ کے انعکاس پر رکھتا ہے۔یہ نظریہ جو اسلام نے پیش کیاہے اتنا اہم ہے کہ اگرغور سے کام لیاجائے تواس نے مذہبی دنیا میں ایک انقلاب پیداکردیاہے اوراس نے نیکی اوربدی کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو گہرے غور و فکر کے عاد ی نہیں صرف اتنا ہی دیکھا کرتے ہیں کہ چونکہ فلاں کام کرنے کوہماراجی چاہتا ہے اس لئے ہم وہ کام کریں گے یافلاں کام کرنے کو چونکہ ہمارا جی نہیں چاہتا اس لئے ہم و ہ کام نہیں کریں گے۔ایسے لوگوںکے نزدیک اچھے کام کی تعریف صرف یہی ہوتی ہے کہ جس کے کرنے پر ان کا جی چاہے اوربُرے کام کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ جس کے کرنے کو ان کاجی نہ چاہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعریف بالکل غلط ہے کیونکہ ہزاروں انسان ایسے ہوتے ہیں جن کا جی کسی کام کے کرنے کو آج توچاہتا ہے مگر کل نہیں چاہتا۔یاآج تو ایک شخص چاہنے والی بات کو نہیں چاہتا مگر کل وہ اُسے چاہنے لگتاہے۔اوراگر اس سے کوئی شخص سوال کرے کہ تمہارےاُس وقت چاہنے اوراب نہ چاہنے یااُس وقت نہ چاہنے اوراب چاہنے کی کیاوجہ ہے تو وہ کہہ دیتاہے کہ اُس وقت میرے حالات اَورتھے اوراب اَورہیں۔یابسا اوقات و ہ کہہ دیتاہے کہ جب میں نہیں چاہتا تھا تواُس وقت میں غلطی کررہاتھا اوراب جبکہ چاہنے لگاہوں تودرست کررہاہوں۔مگر اس کی یہ بات بھی قطعی نہیں کہلاسکتی۔کیونکہ عین ممکن ہے کہ کل وہ پھر اپنی چاہی ہوئی چیز سے نفرت کرنے لگ جائے پھر اگر کسی شخص کاکسی کام کو چاہنا ہی نیکی ہوسکتی ہے توفرض کرو زید چاہتا ہے کہ بکر کے باپ کو قتل کردے اوروہ اُسے قتل کردیتاہے توکیابکر اس لئے خاموش ہوجائے گا کہ وہ اِس کام کو چاہتا تھا ؟ یاکسی شخص کاملازم کام میں سستی کرتاہے توکیا اس کاآقا ملاز م کے یہ کہنے پر کہ اس کام کا تعلق میری مرضی کے ساتھ ہے خاموش ہوجائے گا ؟اگر کسی شخص کاکسی کام کوچاہنا ہی نیکی ہو سکتا ہے توبکر کااپنے باپ کے قاتل کے خلاف مقدمہ دائر کرنا بے انصافی ہوگا۔اِ سی طرح آقاکااپنے ملازم کو اس کی سستی پرسزادینا ظلم ہوگا۔کیونکہ زید چاہتا تھا کہ بکر کے باپ کو قتل کردے اورملازم چاہتاتھا کہ وہ کام میں سستی کرے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جوخود نیکی اوربدی کے متعلق ایک فارمولاتجویز کرتا ہے اورکہتا ہے کہ جس چیز کو انسان کا جی چاہے وہ نیکی ہے۔اورجس کو نہ چاہے وہ بدی۔اُسی شخص کے باپ کو جب کو ئی شخص قتل کردیتا ہے تووہ سخت غصہ میں آجاتاہے اورکہتاہے میں اس سے بدلہ لے کررہوں گا۔حالانکہ چاہیے تھا کہ جب اس کے باپ