تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 251
طرح مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے اسی طرح محبت الٰہی اسے خدا تعالیٰ کی طرف کھینچنے لگ جاتی ہے۔یہ تعلیم جو اسلام نے دنیاکے سامنے پیش کی ہے اتنی اہم ہے کہ اگر اس کے مطابق ہرانسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنانے کی کوشش کرے تویقیناً اس دنیا کانقشہ پلٹ جائے اورہرانسان نیکی کے ایسے بلند مقام پر کھڑاہوجائے کہ جس سے اس کاقد م کبھی منحرف نہ کیاجاسکے۔یہی حقیقت ایک دفعہ مجھے رؤیا میں بھی بتائی گئی تھی۔مَیں نے دیکھا کہ مَیں تقریر کررہاہوں اور میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے۔میں تقریر کرتے ہوئے لوگوں سے کہتا ہوں کہ دیکھو انسان کادل خدا تعالیٰ نے ایک آئینہ کی مانند بنایاہے۔جس طرح انسان آئینہ میں اپنا حسن دیکھتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنا حسن انسان کے آئینہء قلب میں دیکھناچاہتاہے۔پس اگر انسان کا دل خدا تعالیٰ کی صفات کو اعلیٰ طور پر ظاہر کرنے والاہو تو خدا تعالیٰ بھی اس د ل کی قدر کرتا اور اُسے ایک قیمتی متاع قرار دیتا ہے۔لیکن اگر انسان کا دل میلا اورداغدار ہو۔اوراس میں سے خدا تعالیٰ کا چہر ہ نظر نہ آئے یانظرتو آتا ہو لیکن غلط طور پر آتا ہو تو خدا تعالیٰ بھی ایسے دل کو پرے پھینک دیتا ہے۔اورجب مَیں نے یہ الفاظ کہے تووہ آئینہ جو میرے ہاتھ میں تھا اُسے مَیں نے زورسے زمین پر دے مارااورکہا کہ ایسے دل کو خدا تعالیٰ بھی اُٹھا کر اسی طرح دے مارتاہے اوروہ چُور چُور ہو جاتا ہے(روزنامہ الفضل ۱۳/ دسمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۲)۔اِس رؤیا میںیہی نکتہ بتایاگیاہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کانور ظاہر کرے۔اور اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی صفات کاظہور ہو۔پس ضروری ہے کہ ہر انسان اپنے دائرہ میں ربّ بھی ہو رحـمٰنبھی ہو، رحیم بھی ہو۔مالک یوم الدین بھی ہو۔جبار بھی ہو۔ستّار بھی ہو۔غفّار بھی ہو۔علیم بھی ہو۔شکور بھی ہو۔حمید بھی ہو۔مجید بھی ہو۔ودودبھی ہو۔غرض خدا تعالیٰ کی ساری صفات کو وہ ظاہر کرنے والاہو جن کے متعلق مشہورتویہ ہے کہ وہ ننانوے ہیں مگر ہیں وہ اِس سے بھی زیادہ(بخاری کتاب الشروط باب ما یجوز من الاشراط)۔اگر وہ ایساکرتا ہے تووہ اپنے مقصد حیات کو پوراکرلیتا ہے اوراگر اس کے آئینہء قلب میں خدائی صفات کا انعکاس نہیں ہوتا تووہ ایک ٹوٹاہوابرتن ہے جوکسی کام نہیں آتا یاایک میلا اورداغدار شیشہ ہے جس سے خدا تعالیٰ کا چہر ہ نظر نہیں آسکتا۔اورجس طرح کو ئی انسان میلا اورداغدار شیشہ اپنے پاس نہیں رکھتا اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ایساآئینہ اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتا جس کی غرض تویہ تھی کہ وہ خدانمائی کاآلہ بنے مگر میلاہونے کی وجہ سے وہ خدائی حسن کو ظاہر نہیں کرسکتا۔غرض اسلام صفات الٰہیہ پر خصوصیت سے زوردیتااوربنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ تمہارا