تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 253

کاقاتل اُسی کے مجوزہ فارمولاپرعمل کررہاتھا تووہ خوش ہوتا کہ اُس نے نیکی کی ہے۔اِسی طرح ملازم کے سستی کرنے پر اوریہ کہہ دینے پر کہ میراجی چاہتا تھا کہ مَیں سستی کروں وہ خاموش ہوجاتا بلکہ خوش ہوتا کہ وہ نیکی کے راستہ پر گامزن ہے۔مگر ایساکبھی نہیں ہوتا۔پس نیکی اوربدی کی یہ تعریف درست نہیں۔پھر بعض لوگوں نے اس تعریف سے ذرااَورترقی کی ہے اورکہا ہے کہ جس کام کو سوسائٹی چاہتی ہے و ہ نیک ہے اورجس کام کو سوسائٹی نہیں چاہتی و ہ بد ہے۔مگر اس تعریف پر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوسوسائٹی چاہتی ہے کہ گائے نہ کھائی جائے۔اورمسلمان سوسائٹی چاہتی ہے کہ گائے کھائی جائے۔یاسکھ سوسائٹی چاہتی ہے کہ جھٹکا کھایا جائے اورمسلمان سوسائٹی چاہتی ہے کہ جھٹکانہ کھایاجائے۔اِسی طرح یوروپین سوسائٹی چاہتی ہے کہ شراب پی جائے۔لیکن مسلمان سوسائٹی چاہتی ہے کہ شراب نہ پی جائے۔اب جبکہ ہندوسوسائٹی یہ چاہتی ہے کہ گائے نہ کھائی جائے کیونکہ ایساکرنا سخت گناہ ہے اورمسلمان سوسائٹی چاہتی ہے کہ گائے کھائی جائے کیونکہ اُس کاکھانا ہمارے مذہب میں جائز ہے۔سِکھ سوسائٹی چاہتی ہے کہ جھٹکاکھایاجائے لیکن مسلمان سوسائٹی چاہتی ہے کہ جھٹکانہ کھایاجائے کیونکہ جھٹکاکھاناحرام ہے۔یورپین سوسائٹی چاہتی ہے کہ شراب پی جائے۔لیکن مسلمان سوسائٹی چاہتی ہے کہ شراب بالکل نہ پی جائے کیونکہ اس کاپینا حرام ہے۔توہم کون سی سوسائٹی کی خواہش کے مطابق فیصلہ کریں گے آیا ہم مسلمان سوسائٹی کے چاہنے کے مطابق فیصلہ کریں گے یاسِکھ سوسائٹی کے چاہنے کے مطابق فیصلہ کریں گے یا ہندوسوسائٹی کے چاہنے کے مطابق فیصلہ کریں گے یایورپین سوسائٹی کے چاہنے کے مطابق فیصلہ کریں گے۔اگر ہم ہندوسوسائٹی کے چاہنے کےمطابق فیصلہ کرتے ہیں کہ گائے کھانا سخت جرم ہے تومسلمان کہے گا گائے کھانا جائز ہے۔اگر ہم سکھ سوسائٹی کے چاہنے کے مطابق فیصلہ کریںکہ جھٹکاکھاناچاہیے تو ایک مسلمان کہے گا جھٹکا کھانا حرام ہے۔اگر ہم یورپین سوسائٹی کے چاہنے کے مطابق فیصلہ کریں گے کہ شراب پینی چاہیے تومسلمان کہے گا شراب پینا حرام ہے۔غرض ہمیں کوئی ایک سوسائٹی بھی ایسی نظر نہیں آتی جس کے چاہنے کے مطابق فیصلہ کردیاجائے تواس پر باقی تمام سوسائٹیاں متفق ہوجائیں۔ہزاروں ہزار نیکی اورعیب کی باتیں ایسی ہیں جن میں لوگوں کے اندر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ایک سوسائٹی ایک کام کو بہت بڑی نیکی قرار دیتی ہے تودوسری سوسائٹی اس کو بہت بڑاجرم قرار دیتی ہے یاایک سوسائٹی ایک کام کو سخت گناہ سمجھتی ہے تودوسری سوسائٹی اسی کام کو عین ثواب سمجھتی ہے۔یورپین لوگ شراب کو بہت اچھا سمجھتے ہیں لیکن مسلمان شراب پینا سخت گناہ سمجھتے ہیں۔آیا ہم شراب پینے کو یورپ کے معیار کے مطابق نیکی قرار دیں یااسلام کے معیار کے مطابق بدی قراردیں۔ایک یورپین کسی مسلمان کو شراب کاگلاس پیش کرتا ہے