تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 234

قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ ( اے رسول) توُ ان سے کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے اگر تمہاری طرف سے دعا (اور استغفار) فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًاؒ۰۰۷۸ نہ ہو۔پس جبکہ تم نے پیغامِ الٰہی کو جھٹلادیا تو (اب) اس کا عذاب( تم سے) چمٹا چلا جائےگا۔حلّ لُغَات۔مَایَعْبَؤُ ا۔مَایَعْبَؤُا عَبَأَ سے منفی کا صیغہ ہے اور عَبَأَ لَہٗ کے معنے ہیں قَصَدَ لَہٗ۔اُس کا قصد کیا۔اسی طرح کہتے ہیں مَاعَبَأْتُ بِہٖ شَیْئًا اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ لَمْ أَعُدَّہُ شَیْئًا میں اُس کو کسی گنتی میں نہیں لاتا۔نیز کہتے ہیں مَا أَعْبَأُ بِہٖ اور اُس کے معنے ہوتے ہیں۔مَاکَانَ لَہٗ عِنْدِیْ وَزْنٌ وَلَا قَدْرٌ کہ اُس کی میرے ہا ں کوئی قدر او ر عزت نہیں۔اسی طرح اس کے معنے ہیں مَا اُبَالِیْ۔یعنی میں اُس کی پروا ہ نہیں کرتا ( اقرب) لِزَامٌ لِزَامٌ کے معنے ہیں اَلْمَوْتُ۔موت۔اَلْحِسَابُ۔حساب۔اَلْمُلَازِمُ جِدًّا۔سختی سے چمٹ جانےوالا۔اَلْفَصْلُ فِی الْقَضِیَّۃِ۔مقدمہ کا فیصلہ ( اقرب)۔تفسیر۔عباد الرحمٰن کی علامات بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ہمارے رسول تُو ان لوگوں کو میر ی طرف سے سنا دے کہ اگر تم میرے ایسے بندے بنو جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے تب تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں تم عزت کے مستحق سمجھے جائو گے لیکن اگر تمہاری طرف سے دعا اور استغفار کا سلسلہ جاری نہ رہے اور تم خدا تعالیٰ کے حضور جھکنا اور عجزو انکسار اختیار کرنا اپنا شعار نہ بنائو تو تمہار ا رب تمہاری کیا پرواہ کرتا ہے۔مَا يَعْبَؤُا بِكُمْمیں مَا نافیہ بھی ہو سکتا ہے اور استفہامیہ بھی۔مفہوم دونوں کا ایک ہی رہےگا مگر طرزِ کلام بدل جائےگی۔اگر مَا نافیہ ہو تو آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اے ہمارے رسول کہہ دے کہ اگر تم دُعا سے کام نہیں لو گے اور خشوع و خضوع اختیار نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری کوئی پرواہ نہیں کرےگا اور اگر مَا استفہامیہ قرار دیا جائے تو اس آیت کے معنے یوں ہوںگے کہ اے ہمارے رسول ! تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر تم دعائیں نہیں کرو گے اور تضرع سے کام نہیں لو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے۔یعنی اُس کو تمہاری ضرورت ہی کیا ہے۔وہ تو خود مستغنی ہے اور سب کی ضرورتیں پوری کر رہا ہے۔یعنی صمد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر اپنی ہستی پر غور کرے تو وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اُس کی کوئی اختیاج